این ڈی پی ایس معاملہ: ’ٹرائل جلد مکمل ہونے کے آثار نہیں‘، سپریم کورٹ نے ملزم کو ضمانت دے دی
سپریم کورٹ نے تقریباً دو سال سے جیل میں بند این ڈی پی ایس معاملہ کے ملزم باپن ہلدر کو ضمانت دے دی۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے کی سماعت سست رفتاری سے جاری ہے اور جلد مکمل ہونے کی کوئی امید نہیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے این ڈی پی ایس (نشہ آور ادویات اور نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں سے متعلق قانون) کے تحت درج ایک معاملہ میں ملزم باپن ہلدر کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم تقریباً دو سال سے حراست میں ہے اور مقدمے کی سماعت کے جلد مکمل ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے، اس لیے اسے ضمانت دی جانا مناسب ہے۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اروند کمار پر مشتمل بنچ نے باپن ہلدر کی اپیل منظور کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں اس کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
باپن ہلدر کے خلاف مغربی بنگال کے کرشن نگر ضلع کے بھیم پور پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس پر این ڈی پی ایس قانون کی دفعہ 21(سی) اور 29 کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ استغاثہ کے مطابق پولیس کو ایک کنٹینر کے بارے میں اطلاع ملی تھی، جس میں مبینہ طور پر ممنوعہ اشیا موجود تھیں۔
14 جولائی 2024 کو کنٹینر کی تلاشی کے دوران باپن ہلدر سمیت دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران فینسیڈل کھانسی کے شربت کی 20 ہزار بوتلیں برآمد کی گئی تھیں، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ملزم کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کا بھی ذکر کیا۔ دفاع کا مؤقف تھا کہ مقدمہ کے تین شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے اور چونکہ فردِ جرم عائد ہو چکی ہے، اس لیے مزید حراستی تفتیش کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
عدالت نے اس حقیقت پر بھی غور کیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے 39 گواہوں میں سے اب تک صرف ایک سرکاری گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ملزم ایک سال اور دس ماہ سے زائد عرصے سے جیل میں ہے اور مقدمہ جلد مکمل ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں مقدمہ کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کرنا مناسب ہوگا۔
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ باپن ہلدر کو ماتحت عدالت کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق ضمانت پر رہا کیا جائے۔ اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر استغاثہ کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور ضبطی کے عمل کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے تو معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم کو ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ نے مقدمے کی طویل مدت اور سماعت کی سست رفتار پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو راحت فراہم کر دی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
