بین مذاہب شادی شدہ جوڑے کو سپریم کورٹ کی بڑی راحت، خاندان کو ملنے کی اجازت دینے والے فیصلے پر روک
شادی شدہ جوڑے کی جانب سے پیش وکیل نے شکایت کی کہ راجستھان پولیس کے اہلکار لگاتار ان کے گھر کے باہر تعینات رہتے ہیں اور ان کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میں ان کے رشتہ داروں کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ’جھوٹی شان کے لیے قتل ہونے‘ کے خوف کے سایہ میں زندگی گزار رہے بین مذاہب شادی شدہ جوڑے کو راحت دیتے ہوئے راجستھان ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے جس میں خاتون کے والدین کو ان (جوڑے) سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔ جسٹس اجول بھوئیاں اور جسٹس ارون پلی کی بینچ نے جوڑے کی طرف سے دائر عرضی پر یہ فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل جوڑے نے خاتون کے رشتہ داروں سے جان کا خطرہ ہونے کی شکایت کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : چین کی لڑکی نے جھارکھنڈ کے لڑکے کے ساتھ کی شادی
عدالت عظمیٰ کی 2 رکنی بینچ نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے دقیانوسی عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہئے۔ وہ جوڑے کو پریشان کر رہے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔ بینچ نے راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگاتے ہوئے معاملے کی آئندہ سماعت جولائی کے لیے فہرست بند کردی۔ سماعت کے دوران خاتون کے سرپرستوں کی جانب سے پیش وکیل نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کا مقصد صرف خاتون اور اس کے والد کے درمیان ملاقات کروانا ہے، نہ کہ اس سیکورٹی کو کم کرنا، جو اس جوڑے کو فراہم کی گئی ہے۔ وہیں جوڑے کے وکیل نے شکایت کی کہ راجستھان پولیس کے اہلکار لگا تار ان کے گھر کے باہر تعینات رہتے ہیں اور ان کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میں ان کے رشتہ داروں کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔
وکیل دفاع نے کہا کہ ’’میرے موکلوں کو سیکورٹی تو مل گئی ہے لیکن راجستھان پولیس کے اہلکار ان کے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں۔‘‘ اس دوران راجستھان حکومت کی جانب سے پیش وکیل نے بینچ کو بھروسہ دلایا کہ جوڑے کے گھر کے باہر تعینات پولیس اہلکار اب ان سے ملنے نہیں جائیں گے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ بیان ریکارڈ میں لیا اور جوڑے کی عرضی پر راجستھان حکومت سے جواب طلب کیا۔ سپریم کورٹ نے 30 اپریل کو اترپردیش حکومت کے اس بیان کو ریکارڈ میں لیا تھا کہ وہ جوڑے کو سیکورٹی مہیا کرائے گی۔ اسی کے ساتھ عدالت نے اس عرضی کا تصفیہ کر دیا تھا جس میں جوڑے نے ’جھوٹی شان کے لیے قتل‘ ہونے کے خوف سے سیکورٹی فراہم کئے جانے کی درخواست کی تھی۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ’’چوتھے فریق اترپردیش ریاست‘ کے وکیل نے بتایا کہ اترپردیش پولیس کے اہلکار دوسرے فریق کے گھر (جو پہلے مدعی کی سسرال بھی ہے) گئے تھے۔ انہوں نے بھروسہ دلایا کہ مدعیان کی حفاظت کے معاملے میں کسی بھی ہنگامی صورت میں سبھی ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ عدالت نے جوڑے کو اترپردیش کے باغپت میں لڑکے کے والدین کے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
