عصمت دری کے معاملہ میں متاثرہ کی شناخت ظاہر کرنے پر سپریم کورٹ برہم، تمام ہائی کورٹ کو سخت ہدایات جاری
سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’2018 کے نِپُن سکسینہ بمقابلہ یونین آف انڈیا فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی بھی ذرائع (پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا) میں متاثرہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔‘‘

سپریم کورٹ نے عصمت دری معاملہ میں متاثرہ کی شناخت ظاہر کیے جانے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ عدالت کے احکامات میں متاثرہ یا اس کے اہل خانہ کی شناخت کسی بھی طور پر سامنے نہ آئے۔ جسٹس سنجے کرول اور این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کہا کہ ’’2018 کے نِپُن سکسینہ بمقابلہ یونین آف انڈیا فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی بھی ذرائع (پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا) میں متاثرہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔‘‘
سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کے باوجود نچلی عدالتوں میں اس قانون پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ عدالتوں کی بے حسی اور اس طرح کے جرائم سے منسلک ’سماجی کلنک‘ کے تئیں بیداری کی کمی کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی عدالت نے بتایا کہ 1983 میں تعزیرات ہند میں ترمیم کر دفعہ 228اے شامل کی گئی تھی، جس کا مقصد عصمت دری کی شکار متاثرہ کی شناخت کو عوامی طور پر ظاہر ہونے سے روکنا ہے۔ اس سے قبل ایسی کوئی واضح قانونی پابندی نہیں تھی، جس کی وجہ سے متاثرہ کو سماجی بائیکات اور ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سپریم کورٹ کی بنچ نے اپنے حکم کی کاپی تمام ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو بھیجنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا جائزہ لے رہی تھی، جس میں 9 سال کی بچی سے عصمت دری کے ملزم کو بری کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے معاملوں میں معمولی تضادات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔