25 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ معاملے میں سنیترا پوار کو ملی بڑی راحت، عدالت نے قبول کی ’کلوزر رپورٹ‘

سماعت کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) نے عدالت میں سخت موقف اپناتے ہوئے اپنی مداخلت کی درخواست کو برقرار رکھنے کے لیے پرزور دلائل دیے، لیکن ہائی کورٹ نے ای ڈی کی درخواست مسترد کر دی۔

<div class="paragraphs"><p>سنیترا پوار، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@SunetraA_Pawar</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر کے مشہور ’مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک‘ گھوٹالہ معاملے میں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کی جانب سے دائر کردہ کلوزر رپورٹ قبول کر لی ہے۔ ساتھ ہی سماجی کارکن انا ہزارے کی اعتراض پر مبنی عرضی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی مداخلت کی عرضی کو بھی خارج کر دیا گیا ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کے ساتھ ہی اس معاملے میں اجیت پوار، سنیترا پوار اور روہت پوار سمیت تقریباً 70 ملزمان کو ملنے والی کلین چٹ پر ایک بار پھر مہر لگ گئی ہے۔ خصوصی جج مہیش مادھو نے اقتصادی جرائم کے شعبے کی سی سمری رپورٹ کو منظور کر لیا ہے۔ سی سمری کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات میں کوئی مجرمانہ پہلو سامنے نہیں آیا، اس لیے جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا انہیں کلین چٹ دی جاتی ہے۔


واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک میں 25 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے سے جڑا ہوا ہے۔ اسے ایپکس بینک گھوٹالہ بھی کہا گیا۔ اس معاملے میں سال 2007 سے 2011 کے درمیان بینک کے اس وقت کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر الزام تھا کہ انہوں نے قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے شوگر ملوں اور ٹیکسٹائل ملوں کو قرضے تقسیم کیے۔

ایسے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے کہ شوگر فیکٹریاں جو ’این پی اے‘ بن چکی ہیں ان کو دوبارہ قرض دیا گیا۔ یہی نہیں قرض ادا نہ کرنے پر کچھ کارخانے کوڑیوں کے داموں پر ڈائریکٹرز کے رشتہ داروں کے حوالے کر دیے گئے۔ شکایتوں میں ایسے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس سے ایپکس بینک کو 25 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔


قابل ذکر ہے کہ معاملے کی سماعت کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) نے عدالت میں سخت موقف اپناتے ہوئے اپنی مداخلت کی درخواست کو برقرار رکھنے کے لیے پرزور دلائل دیے، لیکن ہائی کورٹ نے ای ڈی کی درخواست مسترد کر دی۔ بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے معاملے پر اب قانونی طور پر پردہ پڑتا دکھائی دے رہا ہے اور ملزمان کو ملنے والی راحت برقرار رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔