یوگی راج میں کسان بے حال، گنا کسانوں کی تقریباً 84 ہزار کروڑ ادائیگی بقایہ

بتایا جاتا ہے کہ ضلع کے محکمہ گنا اور فیکٹری کی ملی بھگت سے کسی ملازم و ڈائریکٹر کے ذریعہ جانچ کی عرضی ڈلوا کر سازش کے تحت ادائیگی کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ فیکٹری کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔

گنا کسان
i
user

یو این آئی

google_preferred_badge

کشی نگر: اترپردیش کے ضلع کشی نگر کے گنا کسانوں کی بقایہ جات کی ادائیگی روکنے سے کسانوں میں کافی بے چینی ہے۔ ضلع کی چینی مل سیوہری کا پیرائی اجلاس 30 مئی کو بند ہوگیا تھا۔ اس فیکٹری میں کٹھ کوئیاں زون سے بھی گنا آتا ہے۔ جس کے تحت چار خریداری کے مراکز چلتے ہیں۔ اس کے علاوہ تریا سجان زون کا بھی گنا سیورہی فیکٹری ہی میں آتا ہے۔ ان کسانوں کی بقایاجات کی ادائیگی 15 فروی تک ہی ہوپائی ہے۔

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں کسانوں کے ساتھ ہو رہے ان مظالم پر کسی کا دھیان نہیں ہے۔ کسانوں میں لگاتار بے چینی بڑھ رہی ہے اور بقایہ جات کی ادائیگی نہ ہونے سے کسانوں کے یہاں بھکمری کی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بقایہ جاتی کی ادائیگی روکے جانے سے متعلق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ضلع کے محکمہ گنا اور فیکٹری کی ملی بھگت سے کسی ملازم و ڈائرکٹر کے ذریعہ جانچ کی عرضی ڈلوا کر سازش کے تحت ادائیگی کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ فیکٹری کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔


اس سے تقریباً 2 ہزار گنا کسان متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً 84 کروڑ روپئے گنا کسانوں کے روک دیئے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر انل کمار سنگھ نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی اور اگر گڑبڑی ملی تو قصورواروں کے خلاف کارروائی ہونا یقینی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔