جوہر یونیورسٹی کے صدر دروازہ پر تیسرے دن بھی طلبا کا دھرنا جاری، انتظامیہ پر سنگین الزام کیا عائد

دھرنے پر بیٹھے طلبا نے الزام لگایا کہ 3 دن گزر جانے کے باوجود کوئی بھی انتظامی افسر ان کی خبر لینے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو کسی افسر نے ان سے بات چیت کی اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی / سوشل میڈیا
i

رام پور واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتیں منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی کے خلاف طلبا و طالبات کا غیر معینہ مدت کا دھرنا تیسرے دن بھی جاری رہا۔ بارش اور خراب موسم کے باوجود طلبا یونیورسٹی کے صدر دروازے پر ڈٹے رہے اور اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کرتے رہے۔ دھرنے پر بیٹھے طلبا نے الزام لگایا کہ 3 دن گزر جانے کے باوجود کوئی بھی انتظامی افسر ان کی خبر لینے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو کسی افسر نے ان سے بات چیت کی اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک ان کی بات نہیں سنی جاتی، وہ آئندہ بھی یہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

دھرنے پر بیٹھے طالب علم یوسف نے کہا کہ ’’اگر حکومت کو اس یونیورسٹی سے دقت ہے تو اس کے برابر اس سے بھی بڑی یونیورسٹی بنا کر دکھائے۔ تعلیم کے مندر کو گرانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ آخر آئین میں کہاں لکھا ہے کہ بچوں کا مستقبل برباد کر دیا جائے اور ان کے ہاتھوں سے قلم چھین لیا جائے۔‘‘ مظاہرین میں شامل ایک دیگر طالب علم نے کہا کہ ’’یقین دہانی کی بات تو دور، اب تک کوئی افسر ہماری بات سننے تک نہیں آیا۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبا کی بات سنی جائے اور یونیورسٹی سے جڑے مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔


واضح رہے کہ رام پور کی جوہر یونیورسٹی سماجوادی پارٹی کے قدآور رہنما اعظم خان کا ڈریم پروجیکٹ تھی۔ لیکن انتظامیہ نے اس یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو نقشے کے خلاف تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے انہدام کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انتظامیہ نے 15 دن کے اندر اس غیر قانونی تعمیر کو خود منہدم کرنے کو کہا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ان عمارتوں کو بلڈوزر سے منہدم کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔