طلبا احتجاج: ایک پیر میں جوتا اور دوسرا خالی، ناک سے نکلتا خون… راہل گاندھی سراپا مجاہد نظر آئے
چھترسال اسٹیڈیم میں ڈٹینشن سنٹر کے باہر راہل گاندھی سیڑھیوں پر بیٹھ کر مودی حکومت سے مطالبہ کرتے نظر آئے کہ وہ اپنی غلطیوں کے لیے طلبا سے معافی مانگیں۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی 2 تصویریں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں۔ ایک تصویر میں ان کی ناک پر خون لگا نظر آ رہا ہے، اور دوسری تصویر وہ ہے جس میں راہل کے ایک پیر میں جوتا ہے جبکہ دوسرا پیر خالی ہے۔ یہ دونوں تصویریں منگل کے روز وزیر اعظم کی رہائش پر دھرنا دینے کے بعد کی ہیں۔ وزیر اعظم کی رہائش سے راہل گاندھی کو پولیس اہلکار جبراً مبینہ طور پر گھسیٹتے ہوئے اٹھا کر چھترسال اسٹیڈیم لے گئے۔ یہاں ڈٹینشن سنٹر کے باہر راہل گاندھی سیڑھیوں پر بیٹھ کر مودی حکومت سے مطالبہ کرتے نظر آئے کہ وہ اپنی غلطیوں کے لیے طلبا سے معافی مانگیں۔
خون آلود ناک اور ایک پیر میں جوتا و دوسرا خالی پیر والی تصویریں کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر گزشتہ شب شیئر کی تھیں۔ خون آلود ناک والی تصویر کے ساتھ کیپشن لگایا تھا ’جَن نایک‘ یعنی عوامی ہیرو اور ایک پیر میں جوتے والی تصویر کے ساتھ کیپشن تھا ’ظلمی جب جب ظلم کرے گا ستّا کے گلیاروں سے/چپہ چپہ گونج اٹھے گا انقلاب کے نعروں سے‘۔ کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر آج ایک ویڈیوز بھی شیئر کی ہے، جن میں راہل گاندھی ایک پیر میں جوتا اور دوسرا پیر خالی لیے ہجوم کے ساتھ چلتے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’اقتدار میں موجود لوگوں کی ہر تکبرانہ اور جابرانہ کارروائی ناکام ہوگی۔ ہندوستان کے نوجوان تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔‘‘
راہل گاندھی کی وہ ویڈیو بھی تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے، جو کانگریس نے گزشتہ روز ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی تھی اور جس پر لکھا تھا ’انقلاب کا رنگ لال‘۔ ویڈیو کے شروع میں راہل گاندھی کے ناک پر لگا خون نظر آ رہا ہے، اور آگے راہل گاندھی کی کچھ جھلکیاں ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’ہندوستان کے طلبا کو ان کا حق اور ان پر ہوئے مظالم کے لیے انصاف دلانے کی جدوجہد میں ہر قیمت چھوٹی ہے۔ اقتدار کی پوری طاقت لگا کر بھی مودی حکومت جوابدہی سے بچ نہیں پائے گی۔‘‘
دہلی کے چھترسال اسٹیڈیم واقع ڈٹنشن سنٹر کی سیڑھیوں پر بیٹھے راہل گاندھی کی ویڈیو اس وقت خوب شیئر ہو رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ تنہا سیڑھیوں پر بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ راہل گاندھی کے صرف ایک پیر میں جوتا ہے۔ اس ویڈیو مین راہل گاندھی نے نیٹ پیپر لیک معاملہ میں طلبا کے ایشوز، ملک کے تعلیمی نظام اور حکومت کے طریقۂ کار پر بات کی ہے۔ وہ نہ صرف طلبا کے مستقبل کو لے کر فکر مند نظر آ رہے ہیں، بلکہ مودی حکومت کو ہدف تنقید بھی بنا رہے ہیں۔ یہ ویڈیو راہل گاندھی نے گزشتہ روز اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کی تھی، اور اس کے کچھ حصے آج کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کیے ہیں۔
ویڈیو میں راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’آج (21 جولائی) صبح میں نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ ہمیں اس واقعہ پر بحث کرنے کی اجازت دی جائے جو پچھلے دن طلبا کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اسپیکر نے کہا کہ انھیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی، اور اس سے یہ صاف ہو گیا کہ حکومت اس معاملے پر بحث کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔‘‘ اپوزیشن لیڈر آگے کہتے ہیں کہ ’’ہم نے وزیر اعظم رہائش کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے اور طلبا کے ایشوز کو قومی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ طلبا کے کچھ مطالبات ہیں… پہلا، دھرمیندر پردھان اور وزیر داخلہ امت شاہ کا استعفیٰ۔ دوسرا، جن لوگوں نے طلبا کے ساتھ مار پیٹ اور بدسلوکی کی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلبا پر درج سبھی معاملے واپس لیے جائیں۔ آخری مطالبہ، پورا اپوزیشن چاہتا ہے کہ کل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس معاملے پر بحث ہو۔‘‘
اس ویڈیو میں راہل گاندھی نے مظاہرہ کر رہے طلبا پر درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا، اور ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ طلبا سے معافی مانگیں۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ ملک کے نوجوانوں سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ تعلیم و امتحان کے نظام میں فوری اصلاح شروع کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
