اتر پردیش کے 25 اضلاع میں آندھی، بارش اور ژالہ باری نے مچائی تباہی، 11 لوگوں کی موت، فصلیں بھی تباہ

گندم کی کھڑی فصل کھیت میں ہی بچھ گئی، جبکہ پکی ہوئی سرسوں کی فصل برباد ہو گئی۔ آلو کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔ یہ حالات دیکھ کر کسانوں کے چہروں پر مایوسی چھا گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p> فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتر پردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 25 سے زائد اضلاع میں آندھی، طوفان، تیز بارش اور ژالہ باری نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ حالانکہ بارش کی وجہ سے درجۂ حرارت میں کمی ضرور ہوئی ہے اور لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے، لیکن خراب موسم نے نقصان بھی بہت پہنچایا ہے۔ بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اب تک 11 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ گندم کی کھڑی فصل کھیت میں ہی بچھ گئی، جبکہ پکی ہوئی سرسوں کی فصل برباد ہو گئی۔ آلو کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔ یہ حالات دیکھ کر کسانوں کے چہروں پر مایوسی چھا گئی ہے۔

جمعہ کے روز لکھنؤ، للت پور، ایودھیا، بارابنکی، سیتاپور، گونڈا، شراوستی، بہرائچ، بلرام پور، سلطان پور، رائے بریلی، امبیڈکر نگر سمیت کئی اضلاع میں آندھی کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی۔ سیتاپور، بارابنکی، گونڈا، ایودھیا اور للت پور میں تو اس قدر تیزی سے ژالہ باری ہوئی کہ کھیت سفید چادر کی طرح دکھائی دینے لگے۔ للت پور میں اولوں کی چادر دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ جھانسی، پیلی بھیت، شاہجہاں پور، لکھیم پور کھیری، اناؤ، قنوج، سدھارتھ نگر، مظفر نگر، میرٹھ اور مرادآباد میں بھی ژالہ باری ہوئی۔ سدھارتھ نگر میں سب سے زیادہ 39.5 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق اودھ علاقہ خراب موسم کے سبب سب سے زیادہ متاثر رہا۔ بہرائچ میں منو (30)، شراوستی میں انیردھ (55)، بلرام پور میں تیرتھ ورما (30) اور بارابنکی میں مشتاق (42) کی آسمانی بجلی گرنے سے موت ہو گئی۔ مرزا پور میں ہری شنکر (70)، جونپور میں اجیت چوہان (17)، امروہہ اور پریاگ راج میں 2-2 کسانوں کی جان گئی۔ اسی طرح جھانسی کے ببینا میں ایک فیکٹری پر بجلی گرنے سے ہوئے دھماکہ میں ایک ملازم کی موت ہو گئی۔

تیز ہواؤں اور بارش نے فصلوں کی ایسی تباہی کر دی کہ کسان اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ کئی علاقوں میں کھیتوں میں لگی گندم کی فصل پوری طرح بچھ گئی اور سرسوں کی پکی فصل بھی گر گئی۔ علی گنج میں تمباکو کی فصل کو نقصان پہنچا۔ مین پوری اور دیگر اضلاع میں آلو کی کھدائی رک گئی، اور اب کھیتوں میں رکھے آلو خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حکام کو سخت ہدایات دی ہیں کہ ضلع مجسٹریٹ میدان میں اتریں، فصلوں کے نقصان کا فوری اندازہ لگائیں اور معاوضے کا عمل شفاف طریقے سے شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور راحت کی رقم جلد از جلد ان کے کھاتوں میں پہنچائی جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔