مسلسل گراوٹ کے بعد شیئر مارکیٹ میں آئی ہریالی، سنسیکس میں 400 پوائنٹس سے زیادہ کی اُچھال

کاروباری ہفتہ کے پہلے دن صبح 9:15 بجے جیسے ہی تجارت شروع ہوئی، سنسیکس 400 سے زیادہ پوائنٹس چڑھ گیا۔ اس سے قبل صبح گفٹ نفٹی فیوچرز 22,639 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا تھا۔

شیئر بازار، تصویر آئی اے این ایس
i

ہندوستانی شیئر مارکیٹ کے لیے نیا ہفتہ راحت لے کر آیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ مسلسل بکوالی کا سامنا کر رہے گھریلو بازار نے پیر کو شاندار تیزی کے ساتھ شروعات کی۔ بی ایس ای سنسیکس اور این ایس ای نفٹی، دونوں ہی سبز نشان میں کھلے۔ گزشتہ 25 برسوں میں بازار نے مسلسل گراوٹ کا اتنا طویل دور کبھی نہیں دیکھا تھا، لیکن آج کی شروعات نے سرمایہ کاروں کے چہروں پر مسکراہٹ واپس لوٹا دی۔ صبح کی ابتدائی تجارت میں ہی سنسیکس میں 400 سے زیادہ پوائنٹس کا اچھال دیکھنے کو ملا۔ جمعہ کو عوامی تعطیل کے باعث بازار بند رہا تھا، جس کے بعد آج پہلے ہی منٹ سے خریداری کا زبردست ماحول بن گیا۔

کاروباری ہفتہ کے پہلے دن صبح 9:15 بجے جیسے ہی تجارت شروع ہوئی، سنسیکس 400 سے زیادہ پوائنٹس چڑھ گیا۔ اس سے قبل صبح گفٹ نفٹی فیوچرز 22,639 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا تھا۔ یہ اشارے واضح طور پر بتا رہے تھے کہ نفٹی 50 مضبوط شروعات کرنے جا رہا ہے۔ جمعرات کو نفٹی 22,421.95 کی سطح پر بند ہوا تھا۔ جمعہ کی تعطیل کے بعد جب پیر کو کاروبار شروع ہوا تو بنچ مارک انڈیکس نے فوری طور پر اچھی تیزی حاصل کر لی۔


قابل ذکر ہے کہ سنسیکس اور نفٹی میں مسلسل 8 ہفتوں سے گراوٹ درج کی جا رہی تھی۔ 25 سال کی طویل تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب گراوٹ کا سلسلہ اتنا طویل کھنچا۔ آج کی تیزی نے اس منفی سلسلے پر بریک لگا دی۔ اس تیزی کے پیچھے کی وجہ بین الاقوامی بازاروں سے ملنے والے مثبت اشارے ہیں۔ امریکہ میں شرح سود کو لے کر جو خوف بنا ہوا تھا، وہ اب کچھ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حال ہی میں جاری امریکی روزگار کے اعداد و شمار توقع سے کمزور رہے ہیں۔ اس وجہ سے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اس ماہ شرح سود میں جارحانہ اضافے کا امکان کافی کم ہو گیا ہے۔ بازار کے 2 بڑے تاجروں کے مطابق اکتوبر میں فیڈ کی جانب سے شرح سود بڑھائے جانے کا امکان اب 25 فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے۔ اس سے ہندوستان سمیت ابھرتے ہوئے بازاروں کے اثاثوں کو بڑا سہارا ملا ہے۔

اس کے علاوہ خام تیل کی قیمتوں میں آئی گراوٹ نے بھی بازار کو مضبوطی دی۔ پیر کو برینٹ کروڈ 0.6 فیصد پھسل کر 101.6 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات بڑھنے اور جی-7 ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر تیل کے ذخائر جاری کیے جانے سے قریبی مدت میں سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں۔ دیگر ایشیائی شیئر بازاروں میں بھی 0.2 فیصد کی تیزی رہی، جس سے گھریلو سرمایہ کاروں کا حوصلہ بڑھا۔


بازار میں آئی اس مضبوطی کے درمیان غیر ملکی اور گھریلو سرمایہ کاروں کا رخ بالکل مختلف رہا۔ جمعرات کے عارضی اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف آئی پی) نے مسلسل چھٹے کاروباری سیشن میں خالص فروخت کی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اس دن 94.84 ارب روپے کے شیئر فروخت کیے۔ دوسری جانب گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئی) نے محاذ سنبھالے رکھا۔ گھریلو فنڈز نے 100.42 ارب روپے کی زبردست خریداری کی۔ بازار کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ہندوستانی بازار میں یہ تیزی اسی وقت برقرار رہ پائے گی، جب خام تیل کی قیمتیں مزید نیچے آئیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت پر لگام لگے۔

کمپنیوں کی سطح پر بات کریں تو ملک کے سب سے بڑے پرائیویٹ قرض دہندہ ایچ ڈی ایف سی بینک پر سرمایہ کاروں کی خاص نظر ہے۔ بینک نے انوپ باگچی کو 3 سال کی مدت کے لیے اپنا نیا سی ای او مقرر کیا ہے۔ انوپ باگچی فی الحال آئی سی آئی سی آئی پروڈینشیل لائف انشورنس کے ایم ڈی اور سی ای او ہیں۔ ایچ ڈی ایف سی بینک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی بیرونی امیدوار کو بینک کی کمان سونپی گئی ہے۔ اس بڑے فیصلے کے بعد بینک کے شیئرز میں اچھی سرگرمی رہنے کی امید ہے۔