یکم نومبر سے تمام اسمارٹ فون صارفین کو ’سی این اے پی‘ سروس کے تحت نامعلوم کالر کا نام نظر آئے گا
’کالر نیم پریزنٹیشن‘ سروس کے تحت 4جی اور 5جی نیٹ ورک استعمال کرنے والے صارفین کے موبائل فون پر نامعلوم نمبر سے آنے والی کال کے ساتھ کال کرنے والے کا نام بھی نظر آئے گا۔

ہندوستان میں کل سے موبائل فون کے حوالے سے ایک نئے اصول و ضوابط کا نفاذ ہونے جا رہا ہے، جسے ’کالر نیم پریزنٹیشن‘ (سی این اے پی) کہا جاتا ہے۔ حکومت ہند کے محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈی او ٹی) نے حال ہی میں اس سلسلے میں رہنما ہدایات جاری کی تھیں اور ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے کہا تھا کہ یکم نومبر سے تمام اسمارٹ فون صارفین کو نامعلوم کال کرنے والے کا نام دکھایا جائے۔ سی این اے پی سروس کے تحت 4جی اور 5جی نیٹورک استعمال کرنے والے صارفین کے موبائل فون پر نامعلوم نمبر سے آنے والی کال کے ساتھ کال کرنے والے کا نام بھی نظر آئے گا۔ یہ سروس کافی حد تک ٹروکالر ایپ کی یاد دلاتی ہے۔
مثال کے طور پر اسے یوں سمجھیں کہ جب شخص اے، شخص بی کو کال کرتا ہے اور شخص بی کی کانٹیکٹ لسٹ میں شخص اے کا نام محفوظ ہے تو فون پر وہی نام نظر آئے گا۔ اگر شخص بی کے کانٹیکٹس میں شخص اے کا نام محفوظ نہیں ہے تو موبائل نمبر کے نیچے کال کرنے والے کا اصل نام نظر آئے گا۔ نامعلوم کال کرنے والے کا وہی نام ظاہر ہوگا، جس کے نام پر سم کارڈ جاری کیا گیا ہے۔ سی این اے پی کو ایک جملے میں سمجھیں تو یہ نامعلوم نمبر سے کال کرنے والے کا نام فون کی اسکرین پر دکھائے گا۔ اگر کوئی بین الاقوامی کال آئے گی تو اس پر ’انٹرنیشنل کال‘ لکھا ہوگا۔
سی این اے پی سروس فی الحال 4جی اور 5جی موبائل صارفین کے لیے شروع کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اسے 2جی اور 3جی صارفین کے لیے بھی الگ سے متعارف کرایا جائے گا۔ سی این اے پی کی بدولت ہندوستانی صارفین آسانی سے پتہ کر سکیں گے کہ انہیں کال کرنے والا ہندوستان سے فون کر رہا ہے یا کسی دوسرے ملک سے۔ سائبر دھوکہ باز اکثر بیرون ملک سے کال کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ سائبر دھوکہ بازوں کے کئی گروہوں کے روابط بیرونی ممالک میں بھی ہیں۔ محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈی او ٹی) دراصل سی این اے پی کی مدد سے سائبر دھوکہ دہی کے واقعات پر قابو پانا چاہتا ہے۔ ہندوستان میں ہر سال سائبر دھوکہ دہی کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے بینک کھاتے خالی ہو جاتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
