سری نگر میں نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا مہنگا پڑا، عدالت نے والد کو قصوروار قرار دیا

سری نگر کی ٹریفک عدالت نے نابالغ بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے پر ایک والد کو قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے تین سال قید اور جرمانے کی تجویز دی، تاہم قانونی رعایت کے تحت فوری سزا سے استثنا دیا گیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

سری نگر: جموں و کشمیر کے سری نگر میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں نابالغ کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے والے ایک والد کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ خصوصی موبائل مجسٹریٹ (ٹریفک) شبیّر احمد ملک کی عدالت نے سڑکوں پر ٹریفک قوانین کے مؤثر نفاذ اور نابالغ ڈرائیونگ کی روک تھام کے مقصد سے یہ فیصلہ سنایا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایک نابالغ لڑکے کو موٹر گاڑی چلاتے ہوئے پایا گیا تھا۔ مذکورہ گاڑی سری نگر کے علاقے فتح کدل کے رہائشی ہارون خان کی ملکیت تھی۔ ٹریفک حکام کی جانب سے چالان پیش کیے جانے کے بعد ہارون خان اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور گاڑی کے مالک ہونے کا اعتراف کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 199-اے اور دفعہ 180 کا جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی نابالغ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو گاڑی کے مالک یا سرپرست کو اس کا ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ہارون خان کو قصوروار ٹھہرایا۔


کارروائی کے دوران ملزم نے جرم قبول کر لیا اور مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا مطالبہ نہیں کیا۔ جرم کے اعتراف کے بعد عدالت نے دفعہ 199-اے کے تحت تین سال سادہ قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی تجویز دی، جبکہ دفعہ 180 کے تحت تین ماہ سادہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی تجویز بھی پیش کی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ گاڑی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ایک سال کے لیے منسوخ رہے گا اور دونوں سزائیں بیک وقت نافذ تصور کی جائیں گی۔

تاہم عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی اخلاقی بدعنوانی شامل نہیں تھی، ملزم کا ماضی کا ریکارڈ صاف تھا اور اسے پہلے کبھی کسی جرم میں قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کو پروبیشن آف آفینڈرز ایکٹ کا فائدہ دیا۔

عدالت نے ہارون خان کو دو سال تک امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے کردار کا مظاہرہ کرنے کی شرط پر دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت دی۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر مچلکے کی شرائط کی خلاف ورزی کی گئی تو تجویز کردہ سزا نافذ کی جا سکتی ہے۔

فیصلے میں عدالت نے گاڑی اور اس سے متعلق دستاویزات رجسٹرڈ مالک کے حوالے کرنے کا حکم بھی دیا۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ اس عدالتی فیصلے کی بنیاد پر سرکاری یا نجی ملازمت، پاسپورٹ کی جانچ یا دیگر اسی نوعیت کے معاملات میں کسی قسم کی نااہلی عائد نہیں ہوگی۔