’دوسروں نے کئی دہائیوں تک میری کہانی سنائی، اب میری باری‘، اپنی خودنوشت کے تعلق سے سونیا گاندھی کا بیان

سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ راجیو گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کے فیصلے کے خلاف تھیں۔ ان کی خودنوشت 10 نومبر کو شائع ہوگی، جس میں وہ اپنی زندگی کے واقعات اور غلط بیانیوں پر اپنا موقف پیش کریں گی

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب</p></div>
i

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن اور پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ جب راجیو گاندھی کو ملک کا وزیر اعظم بنانے کی پیش کش کی گئی تھی، تب وہ اس فیصلے کے بالکل خلاف تھیں۔ انہوں نے اپنی آنے والی خودنوشت ’بی لانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ ان کی کتاب 10 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ہے۔

سونیا گاندھی نے اپنی کتاب کی اشاعت سے قبل اس کے ممکنہ تنازع کا بھی اشارہ دیا۔ ویڈیو کے ساتھ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’’جب یہ کتاب آئے گی تو کچھ تماشہ ہونا تو طے ہے۔‘‘ ویڈیو میں انہوں نے کہا، ’’دوسروں نے کئی دہائیوں تک میری کہانی سنائی ہے، اب میری باری ہے۔‘‘

اپنی زندگی کے واقعات کو خود قلم بند کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن اس میں سے کافی کچھ درست نہیں تھا۔ ان کے مطابق، کئی باتیں یا تو گھڑ کر پیش کی گئیں یا پھر انہیں بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔ اسی لیے انہیں محسوس ہوا کہ اب اپنی کہانی خود لکھنی چاہیے اور واقعات و حقائق کو اسی طرح بیان کرنا چاہیے، جیسے وہ حقیقت میں پیش آئے تھے۔

سونیا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کتاب پڑھنے کے بعد لوگوں کی ان کے بارے میں رائے بدل سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے بہتر ہو سکتی ہے، جب کہ کچھ لوگ ان کے بارے میں پہلے سے زیادہ منفی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی میں رہنے والے کسی شخص کی کتاب سامنے آنے پر اس طرح کے ردعمل فطری ہیں۔


سونیا گاندھی کی خودنوشت ’بی لانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کی اشاعت حالیہ دنوں میں تنازعہ کا موضوع بھی بنی۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے مسودے میں مجوزہ ادارتی تبدیلیوں اور بعض حصوں کو حذف کرنے کے معاملے پر اختلاف کے بعد کتاب شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

رپورٹوں کے مطابق، کتاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، فرقہ وارانہ کشیدگی، اقلیتوں کی صورت حال اور ہندوستان-چین سرحدی تنازع سے متعلق حوالہ جات شامل تھے۔

کانگریس کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ناشر پر سیاسی طور پر حساس مواد حذف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ان کے مطابق، اس معاملہ نے سنسرشپ اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق سوالات کھڑے کیے۔ تاہم، پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے بیرونی دباؤ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ادارتی جانچ اور حقائق کی تصدیق اشاعتی عمل کا معمول کا حصہ ہیں اور فریقین کے درمیان اختلاف حل نہیں ہو سکا۔

اس کے بعد ہارپرکولنز انڈیا نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستان میں سونیا گاندھی کی خودنوشت شائع کرے گا۔ کتاب 10 نومبر 2026 کو منظر عام پر آئے گی، جب کہ امریکہ میں اس کا ایڈیشن پینگوئن رینڈم ہاؤس کے ذیلی اشاعتی ادارے الفریڈ اے نوف کے ذریعے شائع کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔