سونم وانگچک کو پولیس جنتر منتر سے جبراً اسپتال لے گئی، اپوزیشن نے حکومت پر لگایا جمہوریت کو کچلنے کا الزام
سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگچک کو جبراً اسپتال لے جانے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وانگچک کو زبردستی ہٹانا آئین پر حملہ ہے۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے آج جب جنتر منتر پر سونم وانگچک کی ہڑتال اکیسویں دن میں داخل ہو گئی تھی، اور ان کی خراب طبیعت کو لے کر خبریں گشت کر رہی تھیں، تو دہلی پولیس انھیں جبراً اٹھا کر اسپتال لے گئی۔ اس واقعہ کے بعد جنتر منتر پر موجود لوگون میں ہنگامہ شروع ہو گیا اور اپوزیشن پارٹیوں کے بیانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ دہلی پولیس نے سونم کو جبراً صفدر جنگ اسپتال میں داخل تو کرایا ہی، جنتر منتر پر ان کے ساتھ بیٹھے مظاہرین کو بھی ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین وہاں نعرہ بازی کر رہے ہیں اور پولیس کی اس کارروائی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے جنتر منتر جانے والے سبھی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ پولیس مظاہرین سے جنتر منتر کو خالی کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ ڈی سی پی نئی دہلی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’’عزت مآب ہائی کورٹ کے حکم اور میڈیکل ایکسپرٹس کے مشورہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے سونم وانگچک کی بگڑتی صحت کو دیکھ کر انھیں ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’پولیس نے بہت صبر سے کام لیا اور یہ کام بہ حفاظت انجام دیا گیا۔ ہم جنتر منتر پر موجود مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد پرامن طریقے سے جگہ خالی کر دیں۔‘‘
سونم وانگچک کو جنتر منتر سے جبراً ہٹا کر صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرائے جانے کی خبر پر کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن لیڈران نے اس کارروائی پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ آئیے نیچے دیکھتے ہیں سونم وانگچک کے ساتھ ہوئی زبردستی پر کس لیڈر نے کیا کہا...
سچن پائلٹ (کانگریس):
یہ حکومت کی غلط پالیسی ہے۔ سونم وانگچک تقریباً 20 دنوں سے ہڑتال پر ہیں، وہ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ جیسے اہم ایشوز کے لیے کھانا پینا چھوڑ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ پھر بھی حکومت نے نہ تو کوئی بات چیت کی، نہ ہی کوئی مذاکرہ شروع کیا، اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی توجہ دی۔ اب ملک بھر میں بڑھتے اثر اور عوام کے بڑھتے دباؤ کو دیکھتے ہوئے وہ انھیں زبردستی اسپتال لے جا رہے ہیں، تاکہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ حکومت کے لیے بات چیت شروع کرنا کہیں بہتر ہوتا۔ انھیں اسپتال لے جانے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومت شدید دباؤ میں ہے اور اسپتال لے جانے سے عوام کا غصہ مزید بڑھے گا۔
سنجے سنگھ (عا آدمی پارٹی):
یہ کیسی غنڈہ گردی چل رہی ہے؟ مودی جی، یہ اقتدار کا گھمنڈ طویل مدت تک نہیں چلتا۔ جس نوجوان پر لٹھ چلا رہے ہو، یہی آپ کا تخت اکھاڑے گا۔ سونم وانگچک، جو گزشتہ 21 دنوں سے تامرگ بھوک ہڑتال پر ہیں، ان کے مطالبات سننے کی جگہ جبراً گرفتار کر کے اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔
ڈمپل یادو (سماجوادی پارٹی):
سونم وانگچک کو زبردستی ہٹانا صرف ایک کارروائی نہیں، بلکہ جمہوریت اور آئین پر حملہ ہے۔ بی جے پی حکومت اب پُرامن احتجاجی مظاہرہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ تاناشاہی ہے۔
بی جے پی کے لوگ ملک کے لیے کفن کے طور پر سفید چادر لے کر آ رہے ہیں۔ جب پُرامن آوازوں کو دبایا جاتا ہے، تو آئین اور جمہوریت بھی زخمی ہوتے ہیں۔ سونم وانگچک جیسے لوگوں کی آواز کو دبانا ملک کی روح کو دبانے جیسا ہے۔
ساگریکا گھوش (ترنمول کانگریس):
یہ کس طرح کی حیران کرنے والا اور زبردستی والا حکومتی تشدد ہے؟ اخلاقی طور سے دیوالیہ مودی حکومت صرف ڈنڈے کا استعمال کرنا جانتی ہے۔ یہ منظور نہیں ہے۔
آدتیہ ٹھاکرے (شیوسینا یو بی ٹی):
کتنی شرم کی بات ہے! دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کو کس طرح بے شرمی سے زبردستی توڑا جا رہا ہے۔ اب تو ایک نااہل وزیر کے خلاف طلبا کے پُرامن احتجاجی مظاہرے بھی برداشت نہیں کیے جاتے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
