سونم وانگچک اسپتال میں، پھر بھی جنتر منتر پر ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے لیے جمع ہوئی زبردست بھیڑ

سونم وانگچک کی صحت سے متعلق جانکاری دینے کے بعد ان کی بیوی ڈاکٹر گیتانجلی آنگمو نے کہا کہ ’’میں احتجاجی مظاہرہ میں یقیناً ان کی (سونم کی) نمائندگی کروں گی اور مارچ میں شرکت کروں گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پارلیمنٹ مارچ کے لیے جنتر منتر پر جمع بھیڑ، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>
i

تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر دھرنا دے رہے مظاہرین کے آج مجوزہ ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے پیش نظر سیکورٹی ایجنسیاں پوری طرح تیار مستعد ہیں۔ آج سے پارلیمنٹ کا اجلاس بھی شروع ہو رہا ہے، اس لیے دہلی پولیس نے مارچ کی اجازت نہیں دی ہے۔ چنانچہ جنتر منتر کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کر دی گئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اتوار کی دیر رات سے ہی ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے لیے نوجوانوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی تھی۔ اس وقت نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عمر دراز لوگ بھی جنتر منتر میں دکھائی دے رہے ہیں، جو پارلیمنٹ مارچ کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سونم وانگچک اسپتال میں، پھر بھی جنتر منتر پر ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے لیے جمع ہوئی زبردست بھیڑ

لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی تحریک اور آج مجوزہ ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے پیش نظر راجدھانی دہلی کی فضا میں کشیدگی کا عنصر صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں سونم وانگچک جبراً اسپتال میں داخل کیے جا چکے ہیں، دوسری طرف طلبا امتحانات میں بے ضابطگی کے خلاف شروع کی گئی ان کی تحریک کو کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دینا چاہتے۔ سونم کی اہلیہ ڈاکٹر گیتانجلی آنگمو نے بھی اسپتال سے ہی مارچ میں شامل ہونے اور مظاہرین کی قیادت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سونم کی صحت سے متعلق جانکاری دینے کے بعد ان کی بیوی ڈاکٹر گیتانجلی نے کہا کہ ’’میں احتجاج میں یقینی طور پر ان (سونم) کی نمائندگی کروں گی اور مارچ میں شرکت کروں گی۔‘‘

سونم وانگچک اسپتال میں، پھر بھی جنتر منتر پر ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے لیے جمع ہوئی زبردست بھیڑ

اس درمیان دہلی پولیس نے واضح کر دیا ہے کہ اس مارچ کے لیے کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دہلی پولیس نے پوری نئی دہلی میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ کر دی ہے۔ ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ مظاہرین وزیر اعظم کی رہائش گاہ، انڈیا گیٹ یا پھر اہم مقامات کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایسے میں دہلی پولیس نے پوری نئی دہلی میں سیکورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں۔ نئی دہلی کے پورے علاقہ کو 15 زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر زون کی سیکورٹی کی ذمہ داری ایک آئی پی ایس افسر کو دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں سیکورٹی انتظامات کے لیے تعینات پولیس افسران اور جوانوں کو پیر کی صبح چار بجے ہی ڈیوٹی پوائنٹ پر پہنچنے کی ہدایت مل گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ علی الصبح ہی بڑی تعداد میں پولیس فورس جنتر منتر اور دوسرے مقامات پر پہنچ گئی۔

سونم وانگچک اسپتال میں، پھر بھی جنتر منتر پر ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے لیے جمع ہوئی زبردست بھیڑ

بتایا جا رہا ہے کہ نیم فوجی دستوں کی 40 کمپنیاں سیکورٹی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ دہلی پولیس کے نئے پولیس کمشنر انوراگ کمار کچھ سینئر افسران کے ساتھ خود سیکورٹی انتظامات پر نظر رکھیں گے۔ نئے پولیس کمشنر نے دہلی پولیس کی کمان سنبھالتے ہی سب سے پہلے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹوایا تھا، اب ان کی کوشش ہے کہ جنتر منتر پر جمع نوجوانوں کی بھیڑ کو بھی منظم طریقے سے ختم کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔