لکھنؤ: گھنٹہ گھر مظاہرین پر حملہ کی دھمکی دینے والا شرون شرما گرفتار

شرون شرما نامی شخص نے 30 جنوری کو سوشل میڈیا پر ڈالے گئے ایک پوسٹ میں مظاہرین پر حملہ کی دھمکی دی تھی۔ اس نے اپنے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’ پستول کا انتظام ہوگیا ہے اور میرا نشانہ گھنٹہ گھر ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے لکھنؤ کے گھنٹہ گھر پر خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس مظاہرہ میں شامل تحریک کاروں پر حملہ کرنے کی دھمکی گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر دی گئی تھی جسے پیر کے روز پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شرون شرما نامی اس شخص نے اپنے پوسٹ میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف گھنٹہ پر ہو رہے مظاہرہ میں شامل لوگوں کو نشانہ بنانے کی بات کہی تھی۔

دراصل لکھنؤ کے تاریخی گھنٹہ گھر پر گزشتہ 17 دنوں سے خواتین پرامن مظاہرہ کررہی ہیں۔شرون شرما نامی شخص نے گزشتہ 30 جنوری کو سوشل میڈیا پر ڈالے گئے ایک پوسٹ میں گھنٹہ گھر پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس نے اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ اس کے پاس پستول کا انتظام ہوگیا ہے اور اس کا نشانہ گھنٹہ گھر ہے۔ اس پوسٹ کے بعد لوگ مستعد نظر آنے لگے تھے اور گھنٹہ گھر مظاہرہ کے منتظمین اس بات کا خاص خیال رکھ رہے تھے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ سرزد نہ ہو۔


بہر حال، سوشل میڈیا پر شرون شرما کے اس قابل اعتراض پوسٹ کے بعد پولس بھی حرکت میں آئی تھی اور ایف آئی آر درج کر کے آج بالآخر اسے گرفتار کر لیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے بی بی ڈی سے سول ڈپلوما کیا ہے اور کنسٹرکشن کمپنی میں کام کررہا ہے۔دہلی میں حملے کی کوششوں کے بعد یو پی پولس نے مستعدی دکھاتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ مظاہرہ کے مقام پر دو بار اور شاہین باغ مظاہرہ کے مقام پر ایک بار فائرنگ ہو چکی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ دو واقعات میں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جب کہ 30 جنوری کو جامعہ کیمپس کے پاس ہوئی فائرنگ میں گولی شاداب نامی ایک طالب علم کے ہاتھ میں لگی تھی اور اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑ گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔