شیوسینا نام و نشان تنازعہ پر سپریم کورٹ میں سماعت، کپل سبل نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر اٹھائے سوال

سپریم کورٹ میں شیوسینا کے نام و نشان تنازعہ پر سماعت کے دوران کپل سبل نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن 13 برس تک پارٹی کے دوسرے آئین سے لاعلم رہا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: شیوسینا کے نام اور انتخابی نشان ’تیر کمان‘ پر ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے دھڑے کے درمیان جاری تنازعہ پر بدھ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ ادھو ٹھاکرے کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور اس کے ذریعے کیے گئے فیصلے پر سنگین سوالات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ معاملے کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

سماعت کے دوران کپل سبل نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت کے نام، مرکزی دفتر، عہدیداروں یا پتے میں تبدیلی کی صورت میں الیکشن کمیشن کو اطلاع دینا ضروری ہے اور ان کے موکل نے قانون کے مطابق یہ اطلاع دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے لیے یہ کہنا آسان ہے کہ اس کے پاس پارٹی کا تازہ ترین آئین موجود نہیں تھا، جبکہ متعلقہ دستاویزات کمیشن کو فراہم کی گئی تھیں۔

کپل سبل نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے دستاویزات پر مناسب توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے شیوسینا آئین میں پارٹی کے ’پکش پرمکھ‘ (سربراہ) کے عہدے کا واضح ذکر تھا اور اس عہدے کا انتخاب جمہوری طریقے سے ہونا تھا۔ ان کے مطابق 2018 کی جنرل باڈی کی میٹنگ میں 12 نائب رہنماؤں کو نامزد جبکہ 21 کو منتخب کیا گیا تھا اور متعلقہ دستاویز پر کمیشن کی مہر بھی موجود تھی۔

جسٹس باگچی نے سوال کیا کہ کیا منتخب ارکان کے نام کمیشن کو فراہم نہیں کیے گئے تھے۔ اس پر سبل نے کہا کہ نامزد اور منتخب دونوں ارکان کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ شندے دھڑے کی جانب سے اس دستاویز کو بعد میں تیار کیے جانے کے دعوے پر سبل نے کہا کہ اگر ایسا تھا تو الیکشن کمیشن کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے تھی، کیونکہ دستاویز پر خود کمیشن کی مہر لگی ہوئی تھی۔


سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے کہا کہ پارٹی میں تقسیم کا معاملہ دسویں شیڈول کے تحت طے ہونا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بعد میں پیش آنے والے واقعات پر غور کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کا دائرۂ اختیار موجود تھا لیکن اس کا غلط استعمال ہوا تو یہ الگ معاملہ ہے۔

کپل سبل نے دعویٰ کیا کہ 19 جولائی کو الیکشن کمیشن کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف دو اہم دستاویزات تھیں، جن میں ایک قانون ساز طاقت اور دوسری ایک میٹنگ سے متعلق تھی۔ انہوں نے کہا کہ شندے کو پہلے وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا اور اس کے بعد ان کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں کے آنے کو بنیاد بنایا گیا، جو ان کے مطابق درست طریقہ نہیں تھا۔

سبل نے یہ بھی کہا کہ شندے دھڑے نے ادھو ٹھاکرے کو ہی پارٹی سے نکالنے کی کوشش کی، حالانکہ پارٹی کے سربراہ کا انتخاب ہوتا ہے اور قومی ایگزیکٹو پارٹی کی اعلیٰ ترین تنظیم ہے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن پر مزید سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیشن 13 برس تک یہ معلوم نہیں کر سکا کہ پارٹی کا دوسرا آئین بھی موجود ہے، جبکہ کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کی تنظیمی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔ سبل نے اس موقع پر سماجوادی پارٹی کے تنازعہ کا بھی حوالہ دیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ اس معاملے میں والد جیتے تھے یا بیٹا؟ سبل نے جواب دیا کہ بیٹے کی جیت ہوئی تھی اور انہوں نے بیٹے کی طرف سے وکالت کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔