شرد پوار کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال سے چھٹی، گھر پر جاری رہے گا علاج

سینے میں انفیکشن اور برونکائٹس کی شکایت کے بعد زیر علاج شرد پوار کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال سے چھٹی مل گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں گھر پر آرام اور دوائیں لینے کا مشورہ دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے سربراہ شرد پوار کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ سینے میں انفیکشن اور برونکائٹس کی شکایت کے بعد ان کا اسپتال میں علاج جاری تھا۔ اب وہ ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ سلور اوک میں رہ کر دواؤں اور آرام کے ذریعے صحت یاب ہوں گے۔ ان کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے اتوار کو سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی اسپتال سے رخصتی کی اطلاع دی اور علاج کے دوران دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتال کے عملے کا شکریہ ادا کیا۔

سپریا سولے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ شرد پوار کو بریچ کینڈی اسپتال سے چھٹی مل گئی ہے۔ انہوں نے علاج کے دوران محبت اور خلوص کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والے تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور عملے کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی ان تمام خیر خواہوں کا بھی دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسپتال میں ان سے ملاقات کی یا مختلف ذرائع سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کیں۔


شرد پوار کا علاج کرنے والے ڈاکٹر پرتیت سمادانی نے بتایا کہ انہیں مستحکم حالت میں اسپتال سے چھٹی دی گئی ہے۔ سینے کے انفیکشن اور برونکائٹس کی شکایت میں بہتری آ رہی ہے اور اب ان کا علاج گھر پر ہی جاری رہے گا۔

ڈاکٹر سمادانی کے مطابق شرد پوار کو گھر پر باقاعدگی سے دوائیں لینے، آرام کرنے اور معمول کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ان کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اضافی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر نے امید ظاہر کی کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں گے اور اپنی صحت کا خیال رکھیں گے۔

اس سے قبل شرد پوار کو پونے کے روبی ہال کلینک میں داخل کرایا گیا تھا۔ پیر کو کھانسی اور سینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا تھا۔ علاج کے بعد بدھ کو انہیں وہاں سے چھٹی دے دی گئی تھی۔

اس کے بعد ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں بھی ان کا علاج کیا گیا۔ ہفتے کے روز انہیں وہاں سے چھٹی ملی، جس کی اطلاع سپریا سولے نے اتوار کو سوشل میڈیا پر دی۔ انہوں نے اس دوران تعاون کرنے اور نیک تمناؤں کا اظہار کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔