ٹی ایم سی کے قومی ترجمان عہدے سے شانتنو سین نے دیا استعفیٰ، آر جی کر معاملے میں پارٹی کو بنایا نشانہ

ڈاکٹر سے سیاست دان بنے شانتنو سین نے اپنا استعفیٰ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو بھیجااور کہا کہ وہ اب ان مسائل کا دفاع نہیں کر سکتے جو عام لوگوں کو دور کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل فوٹو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

راجیہ سبھا کے سابق ایم پی شانتنو سین نے جمعرات کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی ترجمان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے پارٹی کے اندر جاری تنازعہ بالخصوص آر جی کر میڈیکل کالج عصمت دری اور قتل معاملے کو لے کر پارٹی کے رُخ پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ملی شکست ’’غیر اخلاقی کاموں‘‘ کو قبول کرنے سے انکار کا نتیجہ ہے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹی ایم سی میں اندرونی خلفشار اور تنظیمی کمزوریاں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔

ڈاکٹر سے سیاست دان بنے شانتنو سین نے اپنا استعفیٰ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو بھیجااور کہا کہ وہ اب ان مسائل کا دفاع نہیں کر سکتے جو عام لوگوں کو دور کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ وہ ٹی ایم سی کے آغاز سے ہی اس کے وفادار سپاہی رہے ہیں لیکن اب وہ اخلاقی طور پر ان مسائل کا دفاع نہیں کر سکتے جن سے وہ متفق نہیں ہیں۔


انہوں نے کہا کہ وہ اکثر ٹی وی مباحثوں اور میڈیا میں پارٹی کا دفاع کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنے ضمیر کے خلاف جاتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں عوام کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ عوام نے آر جی کر کیس، نوکری گھپلہ اور بدعنوانی جیسے مسائل پر پارٹی کو مسترد کر دیا تھا، اس لیے وہ اب ان کا دفاع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کا معاملہ حالیہ برسوں میں ٹی ایم سی کے لیے سب سے بڑا سیاسی تنازعہ رہا ہے۔ گزشتہ سال ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل نے پورے بنگال میں بڑے پیمانے پر دھرنے اور مظاہرے ہوئے تھے۔ ڈاکٹروں، طلباء اور سماج کے مختلف طبقوں میں اس واقعہ پر شدید غصہ دیکھا گیا۔

اس معاملے میں ادارہ جاتی بدعنوانی اور اختلاف رائے کو دبانے کے الزامات بھی لگائے گئے، جس نے تنازعہ کو مزید ہوا دی۔ آر جی کر سے وابستہ شانتنو سین نے اس واقعہ کے بعد انسٹی ٹیوٹ میں بے قاعدگیوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں پر معطل کر دیا گیا۔ تاہم بعد میں انہیں بحال کر دیا گیا۔


حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کو مبارکباد دی، جس سے پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ گئی۔ بدھ کو انہوں نے آر جی کر معاملے کی تحقیقات میں نئی ​​حکومت کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ ان کے استعفیٰ کو ٹی ایم سی کے اندر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کئی دوسرے لیڈروں نے بھی استعفیٰ دیا ہے اور پارٹی کے کام کاج پر سوال اٹھائے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔