مودی حکومت میں شرمناک تاریخ رقم! 6 سال میں 90 لاکھ ملازمتوں پر قدغن

عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سنٹر آف سسٹنیبل امپلائمنٹ کی جانب سے شائع ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ 6 سال میں 90 لاکھ ملازمتیں گھٹ گئی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ہندوستان میں بے روزگاری لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اس کے لیے مودی حکومت کو تنقید کا سامنا بھی لگاتار کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ نے مودی حکومت کے لیے مزید پریشانی کھڑی کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملازمت ختم ہونے کی شرح گزشتہ 6 سالوں میں جو درج کی گئی ہے وہ آزاد ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں چھ سال کے اندر روزگار میں 90 لاکھ کی گراوٹ آئی ہے۔ یہ رپورٹ عظیم پریم جی یونیورسٹی کے سنٹر آف سسٹنیبل امپلائمنٹ کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔

اس تازہ رپورٹ میں واضح لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب روزگار میں اس طرح کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار سال 12-2011 اور 18-2017 کے درمیان کے ہیں۔ اگر دوسری طرح سے دیکھیں تو 12-2011 اور 18-2017 کے درمیان ہر سال تقریباً 26 لاکھ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔


سنتوش مہروترا اور جے کے پیرزادہ نے سنٹر آف سسٹنیبل امپلائمنٹ کے لیے اس رپورٹ کو تیار کی اہے جس میں دونوں نے لکھا ہے کہ 12-2011 سے 18-2017 کے درمیان کل روزگار میں 90 لاکھ کی کمی آئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سنتوش مہروترا جے این یو میں شعبۂ اقتصادیات کے پروفیسر ہیں جب کہ جے کے پیرزادہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔

واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے سی ایم آئی ای کا سروےآیا تھا جس میں حالات کچھ الگ ہی نظر آ رہے تھے۔ سی ایم آئی ای کے سروے میں بتایا گیا تھا کہ سال مئی سے اگست کے درمیان تقریباً 40 کروڑ 49 لاکھ لوگوں کے پاس ملازمت تھی جب کہ گزشتہ سال اسی دوران 40 کروڑ 24 لاکھ لوگوں کے پاس ملازمت تھی۔ یعنی سی ایم آئی نے پچھلے سال کے مقابلے اس سال ملازمتوں کی صورت حال بہتر بتائی تھی۔ ساتھ ہی اس نے یہ ضرور واضح کیا تھا کہ ملازمتیں بڑھنے کا معاملہ زراعت کے شعبہ میں سامنے آیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 01 Nov 2019, 3:10 PM