یکم اکتوبر سے بدل گئے کئی اصول، ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ اور ڈیزل-اے ٹی ایف پر ٹیکس میں تخفیف

یکم اکتوبر سے کم از کم 10 ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی، جو عام لوگوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ آئیے، ان 10 تبدیلیوں پر ڈالیں سرسری نظر۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>
i

اکتوبر ماہ کا آغاز ملک میں کئی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ان تبدیلیوں کا اثر ہر گھر اور ہر جیب پر دیکھنے کو ملے گا۔ یکم اکتوبر 2026 سے جہاں ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں مہنگائی کا بم پھوٹا ہے، وہیں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اے ٹی ایم سے مفت رقم نکالنے کی حد سے متعلق اصول بھی بدل دیے گئے ہیں۔ یکم اکتوبر سے کم از کم 10 ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی، جو عام لوگوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ آئیے، ان 10 تبدیلیوں پر ڈالیں سرسری نظر۔

پہلی تبدیلی: کمرشیل ایل پی جی سلنڈر ہوا مہنگا

تہواری سیزن کے آغاز سے پہلے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مہنگائی کا بڑا جھٹکا دیا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 کو صبح سویرے ایل پی جی سلنڈر مہنگا ہو گیا ہے، لیکن یہ اضافہ 19 کلو گرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کیا گیا ہے۔ دہلی میں اس کی قیمت 62.50 روپے بڑھ کر اب 2,810 روپے ہو گئی ہے، جبکہ پٹنہ میں یہ 3,100 روپے سے بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ 14 کلو گرام والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔


دوسری تبدیلی: ایل پی جی ’ای-کے وائی سی‘ کا طریقہ بدلا

ایک طرف جہاں کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافے کا جھٹکا لگا ہے، وہیں یکم اکتوبر 2026 سے ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ سے متعلق نیا اصول بھی نافذ ہو گیا ہے۔ اب ان صارفین کو ایل پی جی سبسڈی حاصل کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے، جنہوں نے اپنے ایل پی جی کنکشن کا آدھار بایومیٹرک تصدیق یا ای-کے وائی سی مکمل نہیں کیا ہے۔ اب اسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔

تیسری تبدیلی: ڈیزل-اے ٹی ایف پر کم ہوا ٹیکس

یکم اکتوبر سے ملک میں دوسری تبدیلی ڈیزل اور ہوائی ایندھن سے متعلق نافذ ہو گئی ہے۔ حکومت نے بدھ کو ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی برآمد پر غیر متوقع منافع ٹیکس میں کمی کی ہے اور یہ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے 15 روزہ عرصہ کے لیے نافذ ہو گئی ہے۔ پٹرول پر اس ٹیکس کو مستحکم رکھا گیا ہے۔ ڈیزل کی برآمد پر عائد اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی (ایس اے ای ڈی) کو 20 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 16 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ وہیں اے ٹی ایف کی برآمد پر عائد فیس بھی پہلی تاریخ سے 15 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 10.50 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔


چوتھی تبدیلی: ایف ڈی کا اصول بدل گیا

آر بی آئی کمرشیل بینکوں کی جانب سے تھوک فکسڈ ڈپازٹ پر شرح سود طے کرنے اور اسے عام کرنے کے طریقے میں تبدیلی کر رہا ہے۔ نئے اصول یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہو گئے ہیں۔ نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت بینکوں کو اپنی تھوک ڈپازٹ کی شرحیں پہلے ہی عام کرنی ہوں گی۔ انہیں ہر روز صبح 10 بجے نافذ تھوک ڈپازٹ کی شرح سود کی معلومات بھی دینی ہوں گی۔ بینکوں کو عام طور پر یکساں تھوک ڈپازٹ پر ایک ہی شرح سود دینی ہوگی۔ حالانکہ وہ مختلف حالات کی بنیاد پر شرحوں میں فرق کر سکتے ہیں۔

پانچویں تبدیلی: این پی ایس کا اصول بدلا

پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے) نے نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) اور این پی ایس لائٹ کے تحت صارفین سے پوائنٹ آف پریزنس (پی او پی) کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس میں ترمیم کی ہے۔ ترمیم شدہ فیس یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہو رہی ہے۔ نئی ساخت کے تحت پی او پی کے ذریعہ رجسٹریشن کرانے والے صارف کو ہر پی آر اے این کے لیے 200 روپے کی یکمشت آن بورڈنگ فیس ادا کرنی ہوگی۔ یہ 200 روپے کی فیس صارف کے اکاؤنٹ سے یکمشت رقم کے طور پر نہیں کاٹی جائے گی۔


چھٹی تبدیلی: ایس بی آئی اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کا نیا اصول

ملک کا سب سے بڑا سرکاری بینک ایس بی آئی اپنے سیلری پیکیج اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے دیگر بینکوں کے اے ٹی ایم اور آٹو ڈپازٹ وِڈراول مشینوں (اے ڈی ڈبلیو ایم) پر ایس بی آئی ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے پر دستیاب مفت ماہانہ لین دین کی تعداد میں ترمیم کر رہا ہے۔ ترمیم شدہ اصول یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔ تمام ایس بی آئی سیلری پیکیج اکاؤنٹ کی اقسام کے لیے دیگر بینکوں کے اے ٹی ایم پر مفت لین دین کی تعداد تمام مراکز میں ماہانہ 10 سے کم کر کے 5 کر دی جائے گی۔ بیسک سیونگس بینک ڈپازٹ (بی ایس بی ڈی) اکاؤنٹس کے لیے ایک ماہ میں 4 بار نقد رقم نکالنا مفت رہے گا، جس کے بعد ہر لین دین پر 15 روپے + جی ایس ٹی فیس عائد ہوگی۔

ساتویں تبدیلی: این آر آئی سرمایہ کاری

اب تک کسی غیر مقیم ہندوستانی سے جائیداد خریدنے میں عام جائیداد کے سودوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ کاغذی کارروائی ہوتی تھی۔ لیکن یکم اکتوبر سے اس کا عمل بدل رہا ہے، کیونکہ محکمہ انکم ٹیکس غیر مقیم خریداروں کے لیے ٹی ڈی ایس کے عمل کو آسان بنا رہا ہے۔ پہلی تاریخ سے این آر آئی سے غیر منقولہ جائیداد خریدنے والے مقیم افراد اور ہندو غیر منقسم خاندانوں (ایچ یو ایف) کو ٹی ڈی ایس کے لیے الگ سے ٹیکس کٹوتی اور ٹی این این کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے خریدار اپنے پین کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ٹی ڈی ایس کی تخفیف، جمع اور رپورٹنگ کر سکیں گے۔


آٹھویں تبدیلی: پی یو سی کے بغیر پٹرول-سی این جی نہیں ملے گی

دہلی-این سی آر میں پٹرول پمپوں پر گاڑی میں پٹرول یا سی این جی بھروانے سے پہلے اب صرف جیب میں پیسے ہونا کافی نہیں ہوگا۔ یکم اکتوبر سے اگر آپ کی گاڑی کا آلودگی جانچ سرٹیفکیٹ  (پی یو سی) درست نہیں ہے تو ایندھن لینے میں دشواری آ سکتی ہے۔ یعنی گاڑی لے کر پٹرول پمپ پہنچنے سے پہلے اب ایک اور چیز چیک کرنی ہوگی... آپ کی گاڑی کا  پی یو سی درست ہے یا نہیں دیکھنا ہوگا۔ سردیوں میں بڑھنے والی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن (سی اے کیو ایم) نے یہ انتظام نافذ کیا ہے۔ سی اے کیو ایم کے مطابق پہلی تاریخ سے پورے این سی آر میں بغیر درست پی یو سی سرٹیفکیٹ والی گاڑیوں کو ایندھن دینے پر پابندی کا انتظام نافذ ہو گیا ہے۔

نویں تبدیلی: لائف سرٹیفکیٹ کا اصول

یکم اکتوبر سے لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کا وقت شروع ہو رہا ہے۔ اگر آپ پنشن کا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو لائف سرٹیفکیٹ آن لائن یا آف لائن جمع کرنا ہوگا۔ یہ ہر سال اکتوبر سے جمع ہونا شروع ہوتا ہے۔


دسویں تبدیلی: مہنگائی میں اضافہ

اس تہواری سیزن میں گھریلو الیکٹرانکس کی اشیا خریدنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ ٹی وی، فریج، اے سی سمیت دیگر گھریلو الیکٹرانکس کی اشیا خریدنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، تو بتا دیں کہ اس شعبے کی کمپنیوں نے خام مال کی لاگت میں تیزی سے اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے اشارے دیے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔