مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکز فوری اور ٹھوس اقدامات کرے: سوربھ بھاردواج
عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے مرکز پر امریکہ کے دباؤ میں روس سے سستا تیل کم خریدنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور تجارتی خسارہ معیشت کے لیے خطرناک اشارے ہیں

عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے مرکز کی مودی حکومت پر مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے ہندوستان نے روس سے سستا خام تیل خریدنا کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ حال ہی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً تین روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور آنے والے وقت میں اس میں مزید بڑھوتری ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف شروعات ہے اور اگر حالات یہی رہے تو عوام کو مہنگائی کی مزید سخت مار جھیلنی پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہندوستان روس سے کم قیمت پر خام تیل خرید کر عوام کو راحت پہنچا رہا تھا، لیکن اب امریکہ کی ناراضگی کے خوف سے ایسا نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی پالیسیاں بیرونی دباؤ سے متاثر دکھائی دیتی ہیں، جس کا سیدھا اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایک طرف حکومت عوام سے غیر ضروری بیرون ملک سفر کم کرنے اور سونا نہ خریدنے کی اپیل کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو، دوسری طرف بڑے صنعت کار بیرون ملک بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر معیشت واقعی مضبوط ہے تو پھر عوام کو اس طرح کی احتیاطی اپیلیں کیوں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق انجینئرنگ اور ایم بی اے جیسی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو بھی مناسب روزگار نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر شعبے میں مسلسل چھنٹنی ہو رہی ہے، جس سے نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ بڑھتا تجارتی خسارہ، درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی معیشت کے لیے خطرناک اشارے ہیں۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کی اصل معاشی صورت حال عوام کے سامنے واضح کرے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
