’دہلی میں عمارتوں کے آڈٹ کے نام پر ہو رہی وصولی‘، سوربھ بھاردواج کا بی جے پی حکومت پر حملہ
دہلی میں عمارتوں کے آڈٹ اور معائنہ کے نام پر وصولی کا الزام لگاتے ہوئے عآپ رہنما سوربھ بھاردواج نے ریکھا گپتا حکومت کو نشانہ بنایا اور سرکاری محکموں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنما سوربھ بھاردواج نے دہلی کی بی جے پی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ راجدھانی میں عمارتوں میں حادثات کے بعد آڈٹ اور معائنہ کے احکامات تو جاری کیے جاتے ہیں، لیکن ان کی آڑ میں بدعنوانی اور وصولی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری محکموں کے افسران عمارتوں کی جانچ کے نام پر تاجروں سے مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں۔
سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے حکومت اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلی میں ہر ماہ کوئی نہ کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے، جس کے بعد وزیر اعلیٰ تمام عمارتوں کا نیا آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کرتی ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق، ان احکامات کے بعد عمارتوں کے معائنہ اور جانچ کے نام پر غیر قانونی وصولی کا نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
عآپ رہنما نے الزام لگایا کہ پہلے میونسپل کارپوریشن دہلی (ایم سی ڈی) اور دہلی پولیس پر بدعنوانی اور وصولی کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن اب فائر سروس اور محکمہ محصولات بھی اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق، ہوٹلوں، ریستورانوں، جم، نرسنگ ہومز، کوچنگ سینٹروں اور دیگر تجارتی اداروں کو معائنے اور جانچ کے نام پر مبینہ وصولی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھاردواج نے کہا کہ عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جانچ اور حفاظتی ضوابط کی پابندی ضروری ہے، لیکن اگر معائنے کے عمل کو رشوت وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے کاروباری طبقے پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور سرکاری نظام پر اس کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ عآپ رہنما نے دہلی کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ’ٹرپل انجن‘ حکومت پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا الزام ہے کہ اقتدار کی مختلف سطحوں پر ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود بدعنوانی پر مؤثر قابو نہیں پایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہر بڑے حادثے کے بعد عمارتوں کے آڈٹ اور معائنے کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں تو ایسے حادثات کی تکرار روکنے اور انتظامی جواب دہی طے کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے ہیں۔ عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی کے ضوابط پر عمل درآمد اور سرکاری معائنے کے نظام میں شفافیت اس معاملے کے اہم پہلو ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
