’سرونا بھون‘ کے مالک کی قید میں موت، ملازم کی بیٹی پر آیا تھا دل، شوہر کا کیا تھا قتل
جنوبی ہندوستان کے کھانوں کی عالمی فوڈ چین ’سرونا بھون‘ کے مالک پی راجہ گوپال پر ملازم کی بیٹی کے شوہر کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا، عدالت سے اس کو عمر قید کی سزا ہو ئی تھی۔

’سرونا بھون‘ کے مالک پی راجہ گوپال کی آج صبح 10 بجے دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ پی راجہ گوپال ایک قتل کے معاملہ میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا، سپریم کورٹ میں رحم کی عرضی خارج ہونے کے بعد اس نے عدالت میں خود سپردگی کر دی تھی۔ اس کو طبیعت خراب ہونے کے بعد عدالت نے سرکاری اسپتال سے پرائیویٹ اسپتال میں علاج کے لئے منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد اس کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔
جنوبی ہندوستان کے کھانوں کی عالمی فوڈ چین ’سرونا بھون‘ کے مالک پی راجہ گوپال پر ملازم کی بیٹی کے شوہر کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا، عدالت سے اس کو عمر قید کی سزا ہو ئی تھی۔ 18 سال قبل پی راجہ گوپال کا دل اس کے ملازم کی بیٹی پر آ گیا تھا اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن پہلے سے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس لڑکی نے راجہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن پہلے سے دو شادی کر چکا پی راجہ گوپال کو یہ برداشت نہیں ہوا۔
پی راجہ گوپال نے پہلے اس لڑکی کے شوہر پرنس شانتا کمار کا اغوا کرایا اور لڑکی پر شادی کے لئے دباؤ ڈالا اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد بھی جب لڑکی نہیں مانی تو پی راجہ گوپال پر الزام ہے کہ اس نے شانتا کمار کو چھوڑنے کے کچھ روز بعد ہی اس کا قتل کروا دیا تھا۔ واضح رہے کہ پی راجہ گوپال نے اس لڑکی کا دل جیتنے کے لئے بڑے مہنگے مہنگے تحائف بھی دیئے تھے۔
شوہر شانتا کمار کے قتل کے بعد اس لڑکی نے پی راجہ گوپال کے خلاف کیس درج کروا دیا، لیکن شروع میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پی راجہ گوپال بہت امیر اور تعلقات والا تھا۔ اس کو ایک کیس میں ضمانت مل گئی تھی لیکن سال 2006 میں چینئی کی عدالت نے پی راجہ گوپال اور قتل میں شامل چار دیگر افراد کو دس دس سال کی سزا سنا دی۔ اس کے بعد معاملہ مدراس ہائی کورٹ میں پہنچا جہاں پی راجہ گوپال کو 2009 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ پی راجہ گوپال نے 2019 میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن یہاں بھی اس کو کوئی راحت نہیں ملی۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو 7 جولائی تک خود سپردگی کے لئے کہا۔ پی راجہ گوپال نے خود سپردگی کرنے کے بعد پھر رحم کی اپیل کی تھی۔ سزا کے دوران اس کی طبعیت خراب ہو گئی، اس کو دل کا دورہ پڑا جو اس کی موت کا سبب بن گیا۔
واضح رہے جنوبی ہندوستان میں نجومیوں کا بہت اہم کردار ہے۔ پی راجہ گوپال 1981 تک ایک چھوٹی سی کرَانے کی دوکان چلاتا تھا، اس دوران اس کی ملاقات ایک نجومی سے ہوئی جس نے اس کو بتایا کہ اس کا مستقبل کھانے کے شعبہ میں روشن ہے، اس نجومی کے کہنے پر راجہ گوپال نے کے کے نگر میں ایک ریسٹورینٹ کھولا۔ پہلے تو اس کو اس میں نقصان ہوا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ نقصان منافع میں بدلنے لگا اور پھر وہ عالمی شہرت یافتہ فوڈ چین کا مالک بن گیا۔ وہ ڈوسا کنگ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ عدالت میں ہوئی بحث کے دوران راجہ گوپال نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے تیسری شادی کے لئے بھی نجومی سے مشورہ کیا تھا، اس نجومی نے راجہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اگر تیسری شادی کرتا ہے تو اس کا مستقبل اور تابناک ہو جائے گا۔ لیکن نجومی کا اس مرتبہ کہنا ماننا راجہ گوپال کو مہنگا پڑ گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 18 Jul 2019, 3:10 PM


