’انہوں نے خود کو فروخت کے لیے بازار میں کھڑا کر دیا تھا‘، باغی ارکان پارلیمنٹ پر سنجے راؤت کا سخت حملہ
سنجے راؤت نے 6 باغی ارکان پارلیمنٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اقتدار اور مفادات کے لیے اپنی وفاداری فروخت کر دی۔ انہوں نے باغی ارکان سے استعفیٰ دے کر عوام کا سامنا کرنے کا مطالبہ بھی کیا

ممبئی: شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے چیف ترجمان سنجے راؤت نے ایکناتھ شندے دھڑے میں شامل ہونے والے 6 ارکان پارلیمنٹ پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خود کو فروخت کے لیے بازار میں کھڑا کر دیا تھا اور ان کی وفاداری کی بولی لگائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسے پارٹی میں تقسیم نہیں بلکہ سودے بازی کہا جانا چاہیے۔
شیو سینا کے ساٹھویں یوم تاسیس کے موقع پر پارٹی میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے درمیان سنجے راؤت نے کہا کہ کسی نظریے کی بنیاد پر پارٹی چھوڑنے والوں کو الگ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن جب کوئی خود کو فروخت کے لیے پیش کرے اور کوئی اسے خرید لے تو اسے بغاوت نہیں بلکہ سودا کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن قبل ان کی جماعت کے چھ افراد نے اپنی قیمت مقرر کی اور فروخت ہو گئے۔
سنجے راؤت نے سنجے دینا پاٹل، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل اشٹیکر، سنجے جادھو، بھاؤ صاحب واکچورے اور اوم پرکاش راجینمبالکر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے پارٹی کے سخت وہپ کے باوجود دہلی میں منعقدہ اہم پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت میں وزارت کے عہدوں کو لے کر باغی ارکان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور صورت حال کو سنبھالنے کے لیے رات کے وقت مالی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ سنجے راؤت کے مطابق ناراض ارکان کو خاموش رکھنے کے لیے آئندہ ایک سال کے دوران ہر ایک کو اضافی پچیس کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ عوامی طور پر کوئی ہنگامہ نہ کریں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ باغی ارکان سخت پولیس تحفظ کے سائے میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر اتنی بھاری پولیس نفری کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، جبکہ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
سنجے راؤت نے مزید کہا کہ اگر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور مرکزی تحقیقاتی بیورو جیسی ایجنسیوں کو صرف آدھے گھنٹے کے لیے روک دیا جائے تو مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کئی حصوں میں بٹ جائے گی۔ انہوں نے باغی ارکان سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر ان میں ذرا سی بھی شرم باقی ہے تو وہ اپنے رکن پارلیمنٹ کے عہدوں سے استعفیٰ دیں اور عوام کے درمیان جا کر ان کا سامنا کریں، کیونکہ وہ ادھو ٹھاکرے اور پارٹی کارکنوں کی محنت کے سہارے منتخب ہوئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
