دہلی یونیورسٹی میں این ایس یو آئی کے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے سندیپ دکشت کی ملاقات، حکومت پر کی تنقید
دہلی یونیورسٹی میں این ایس یو آئی کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے دوران سندیپ دکشت نے طلبہ سے ملاقات کر کے حمایت کا اعلان کیا اور حکومت پر تعلیمی اداروں کو سیاسی بنانے کا الزام لگایا

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی جانب سے جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جمعرات کو چوتھے دن میں داخل ہو گئی۔ اس موقع پر رچناتمک کانگریس کے چیئرمین سندیپ دکشت نے فیکلٹی آف آرٹس پہنچ کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات کی، ان سے اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔
خیال رہے کہ کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی ’ڈی یو ستیہ گرہ: جمہوریت بچاؤ، دہلی یونیورسٹی بچاؤ‘ کے عنوان سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ پانچ طلبہ، دیپک چودھری، ساگر چودھری، پارتھ راؤ، کلدیپ گوجر اور سدھانت تیواری، نے بدھ کے روز اپنے مختلف مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔
طلبہ کے مطابق احتجاج کی فوری وجہ دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری وہ ہدایت تھی جس میں طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر بھی قانون کی پابندی کرنے سے متعلق ایک پوسٹ جاری کی گئی۔ این ایس یو آئی اور کانگریس رہنماؤں کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ غیر جانبدار ادارے کے بجائے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ترجمان کے طور پر کام کر رہی ہے۔
بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے سندیپ دکشت نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی کی خودمختاری پر حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ ملک بھر میں سرکاری تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے، جنتر منتر میں طلبہ کے احتجاج اور دہلی یونیورسٹی کے حالیہ واقعات میں ایک ہی طرزِ عمل نظر آتا ہے، جس کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا، اداروں کو سیاسی بنانا اور طلبہ کے مفادات کو نظر انداز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس جدوجہد میں طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتی رہے گی۔
این ایس یو آئی نے اپنے مطالبات میں وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ سے عوامی معافی، جنتر منتر احتجاج سے متعلق یونیورسٹی کی ایکس پوسٹ حذف کرنے، دہلی یونیورسٹی کی فضا کو ’زعفرانی رنگ‘ دینے کے عمل کو روکنے، ڈی یو ایس یو میں خواتین کے لیے ایک مخصوص عہدہ مختص کرنے، پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے بہتر ہاسٹل اور انسدادِ ہراسانی نظام، پی ایچ ڈی داخلوں میں شفافیت، ایگزیکٹو کونسل اور اکیڈمک کونسل میں طلبہ کی نمائندگی، ایک سالہ پوسٹ گریجویٹ پروگرام میں نشستوں میں اضافہ اور اہل اساتذہ کی تقرری جیسے مطالبات شامل کیے ہیں۔
رچناتمک کانگریس کے مطابق دہلی یونیورسٹی کا یہ احتجاج ملک بھر میں طلبہ کی جاری تحریکوں کا حصہ ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ اور گجرات میں بھی این ایس یو آئی نے نیٹ پرچہ لیک اور جنتر منتر میں طلبہ پر لاٹھی چارج کے خلاف بھوک ہڑتالیں کی ہیں، جو حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف قومی سطح پر احتجاج کی عکاسی کرتی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
