سنبھل کی شاہی جامع مسجد کا مرکزی دروازہ خستہ حال، کمیٹی کا محکمہ آثارِ قدیمہ سے فوری مرمت کا مطالبہ

شاہی جامع مسجد سنبھل کی انتظامیہ نے مرکزی دروازے اور منہدم دیوار کی فوری مرمت کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا، دروازہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے، جبکہ محکمہ آثارِ قدیمہ کو خط بھیجنے کے باوجود کارروائی نہیں ہوئی

<div class="paragraphs"><p>شاہی جامع مسجد سنبھل / تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سنبھل: اتر پردیش کے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی خستہ حال دیوار اور مرکزی دروازے کی فوری مرمت کا مطالبہ کیا ہے۔ مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ مرکزی دروازہ انتہائی خراب حالت میں پہنچ چکا ہے اور کسی بھی وقت گر سکتا ہے، جس سے کسی بڑے حادثے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

مسجد کمیٹی نے اس سلسلے میں محکمہ آثارِ قدیمہ کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کیا ہے لیکن اب تک متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جلد مرمت نہ کرائی گئی تو جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔

شاہی جامع مسجد کمیٹی کے سربراہ ظفر علی نے بتایا کہ 16 مئی کو میرٹھ میں واقع محکمہ آثارِ قدیمہ کے دفتر کو رجسٹری کے ذریعے ایک خط بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں مسجد کے مرکزی دروازے کی بگڑتی ہوئی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فوری مرمت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسجد کا مرکزی دروازہ کافی پرانا ہو چکا ہے اور اب اس کی حالت تشویش ناک ہو گئی ہے۔ اگر بروقت مرمت نہ ہوئی تو کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو وقت رہتے آگاہ کر دیا ہے۔


ظفر علی نے یہ بھی بتایا کہ مسجد سے متصل ایک دیوار کو بندروں نے پہلے ہی نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعد وہ گر گئی۔ اس واقعے کے بعد مسجد کے احاطے کی حفاظت کو لے کر مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ گری ہوئی دیوار اور مرکزی دروازے دونوں کی جلد مرمت کرائی جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ شاہی جامع مسجد محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیر نگرانی محفوظ عمارتوں میں شامل ہے، اس لیے اس کی دیکھ بھال اور مرمت کی مکمل ذمہ داری بھی متعلقہ محکمہ کی ہے۔

کمیٹی سربراہ نے کہا کہ مسجد انتظامیہ نے بروقت خطرے سے آگاہ کر دیا ہے، لیکن اگر اس کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری محکمہ آثارِ قدیمہ پر عائد ہوگی۔ مسجد کمیٹی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کی جائے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔