بند اسکول، خالی آسامیاں اور کسانوں کی بدحالی جیسے مسائل پر اسمبلی میں حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں سماجوادی پارٹی

اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’کل سے اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے، ہمارے اراکین اسمبلی ہر طرح کے مسائل اٹھائیں گے۔ حکومت کے لوگ اسمبلی کا سامنا ہی نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو (تصویر ویڈیو گریب)</p></div>
i

اتر پردیش اسمبلی کا مانسون اجلاس کل سے شروع ہو رہا ہے۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی نے یوگی حکومت کو گھیرنے کی پوری تیاری کر لی ہے۔ پارٹی صدر اکھلیش یادو نے ایم ایس پی، تعلیم، سرکاری اسکولوں کی بندش، نوکری، ریزرویشن، پیپر لیک، ای-20، ایکسپریس وے کی تعمیر میں بدعنوانی، رام مندر کے عطیات کی چوری، اساتذہ کی خالی آسامیاں اور جوہر یونیورسٹی سمیت کئی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔

مانسون اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل اتوار کو اکھلیش یادو نے راجدھانی لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ کل سے اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے، ہمارے اراکین اسمبلی تمام مسائل اٹھائیں گے۔ حکومت کے لوگ اسمبلی کا سامنا ہی نہیں کرنا چاہتے۔ کسانوں کی بدحالی اور کھاد کی قلت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے بوری سے چوری ہوتی تھی، اب کھاد کی پوری بوری ہی چوری ہو گئی ہے۔


اکھلیش یادو نے کہا کہ جو یونیورسٹی نہیں بنا پائے، وہ یونیورسٹی پر ہتھوڑا چلانا چاہتے ہیں۔ شروع ہی سے جوہر یونیورسٹی کو لے کر حکومت کے ارادے اور مقصد صحیح نہیں رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی پر سخت کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے 10 سالہ اقتدار میں 26386 اسکول بند ہوئے ہیں۔ میری پارٹی اتر پردیش میں بند ہوئے اسکولوں کا مسئلہ ایوان میں اٹھائے گی۔ جب یوپی میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی، اس وقت 113938 اسکول تھے، جبکہ اب 2026 میں 26000 کم ہو گئے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے صدر نے بتایا کہ سب سے زیادہ پرائمری اسکول لکھیم پور کھیری میں بند ہوئے ہیں۔ گورکھپور میں 500 پرائمری اسکول بند ہوئے ہیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقے میں بھی اسکول بند کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کی پارٹی نے اعداد و شمار نکالنا شروع کیے تو یوگی حکومت نے سرکاری ویب سائٹ ہی بند کر دی۔


اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ حکومت کا مقصد صاف ہے کہ پی ڈی اے سماج کو تعلیم یافتہ نہ ہونے دیا جائے۔ ان اسکولوں میں کس طبقے کے طلبہ پڑھتے ہیں، یہ سرکاری اعداد و شمار ہی بتاتے ہیں۔ سرکاری پرائمری اسکولوں میں 2017 تک ایک کروڑ 17 لاکھ بچے پڑھ رہے تھے، جو آج 2026 میں 89 لاکھ کے قریب رہ گئے ہیں۔ 28 لاکھ بچے کم ہو گئے ہیں، جن میں سے 25 لاکھ او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کے بچے گھٹے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔

اساتذہ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ 2017 میں 4 لاکھ اساتذہ تھے، جبکہ آج گھٹ کر ان کی تعداد 3 لاکھ 40 ہزار رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی کرنا تو دور، سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پہلے اسکولوں میں 61 لاکھ بیٹیاں پڑھ رہی تھیں، اب ان کی تعداد 45 لاکھ ہو گئی ہے۔


اسکولوں کی حالت زار پر اکھلیش یادو نے کہا کہ یوپی کے 7000 اسکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ 2300 اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے بیت الخلا نہیں ہیں، جبکہ 576 اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ 23000 اسکولوں میں کوئی کمپیوٹر نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی مل کر یہ مسائل اٹھائیں گے۔ 2026 میں 26000 اسکولوں کے بند ہونے پر سماجوادی پارٹی نے ایک کتابچہ بھی جاری کیا ہے۔ ان کے مطابق اتر پردیش میں واحد بحران بی جے پی ہے، اگر بی جے پی کو ہٹا دیا جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔