سلمان خان کی قانونی ٹیم نے ’کالا ہرن‘ کے میکرز کو بھیجا قانونی نوٹس، فلم کی ریلیز پر روک لگانے کا مطالبہ
سلمان خان کے ’کالا ہرن‘ معاملے پر فلم بننے کی خبر 29 مئی کو سامنے آئی تھی۔ یہ فلم کورٹ روم ڈرامہ اور کرائم تھریلر کا مرکب ہے۔ فلم کا ٹیزر 20 جون کو ریلیز ہونے والا ہے۔

سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کالے ہرن کے شکار معاملے پر مبنی فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل آف لیگیسی‘ کے میکرز اور اس پروجیکٹ سے منسلک لوگوں کو ایک نوٹس بھیجا ہے۔ سلمان خان کی ٹیم نے اس فلم کی ریلیز پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوٹس کے مطابق فلم بنانے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس کی ریلیز روک دیں اور تمام پروموشنل مواد جس میں پوسٹر اور دیگر تشہیری مواد شامل ہے اسے ہٹا دیں۔ لیگل نوٹس میں واضح طور پر وارننگ دی گئی ہے کہ اگر ان مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو متعلق فریقوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس فلم کی ہدایت کاری بھرت ایس شرینیت نے کی ہے اور اسے امت جانی نے پروڈیوس کیا ہے۔ امت جانی پہلے بھی کئی متنازعہ پروجیکٹس کی حمایت کرنے کے باعث سرخیوں میں رہ چکے ہیں، جیسے کہ کنہیا لال قتل معاملہ پر مبنی فلم جس میں درزی کنہیا لال کے قتل کو دکھایا گیا ہے۔ اس قانونی تنازعہ کے بعد فلم ’کالا ہرن‘ کے مستقبل اور اس کی ریلیز کو لے کر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس درمیان جانی فائر فاکس میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کا پہلا لُک پوسٹر جاری کر دیا ہے۔ فلم بنانے والوں کے مطابق یہ فلم اصل زندگی کی قانونی لڑائیوں اور ایکشن سے بھرپور واقعات سے متاثر ہے، اسے بین الاقوامی اور ہالی ووڈ طرز پر بنایا گیا ہے۔ پوسٹر میں مرکزی کردار کو ایک جارحانہ اور پراسرار انداز میں دکھایا گیا ہے، جس کے پیچھے لال اور نیلے رنک کا ایک دلکش بیک گراؤنڈ ہے۔ فلم کا ٹیزر 20 جون کو ریلیز ہونے والا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سلمان خان کے ’کالا ہرن‘ معاملے پر فلم بننے کی خبر 29 مئی کو سامنے آئی تھی۔ یہ فلم کورٹ روم ڈرامہ اور کرائم تھریلر کا مرکب ہے۔ اس فلم میں سلمان خان اور گینگسٹر لارینس بشنوئی کے درمیان جاری مشہور دشمنی کو فلمی انداز میں دکھایا جائے گا۔ اس فلم کی شوٹنگ اتر پردیش کے کئی شہروں میں کی گئی ہے، جن میں سنبھل اور مرادآباد شامل ہیں۔
