ملک کو غروب کی طرف دھکیلتے بھاگوت!

آرا ایس ایس کے سربراہ نے اپنی تقریر میں ایسے دعوے اور خیالات ظاہر کئے ہیں جو نہ صرف تاریخ اور نظریاتی دنیا میں نئے ہیں بلکہ ہمارے ملک کی تعمیر کرنے والوں کی سوچ سے بالکل علیحدہ بھی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

روہت پرکاش

ہندوستان کے دائیں بازو کے مفکرین کا خیال ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ کی عوامی طور پر کہی گئی ہر ایک بات ’سوچی-سمجھی‘ حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے اور اس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (سنگھ کے لوگوں) کے لئے سنجیدہ پیغام ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کمیونسٹوں کے لئے جو اہمیت ’کارل مارکس‘ اور ’فریڈرک اینگیلس‘ کی کتاب ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ کا ہے، سویم سیوکوں کے لئے وہی اہمیت آر ایس ایس کے سربراہ کی ہے۔ حالانکہ دنیا میں بہروپیا ہونا بھی ایک سچائی ہے اس لئے پورے یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سویم سیوک ان باتوں کو انہیں معنوں میں قبول کرتے ہوں گے جن مقاصد سے وہ کہیں جاتی ہیں۔ پھر بھی اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک میں دائیں بازو کی سیاست کی سمت سنگھ سربراہ کی باتوں پر کافی حد تک منحصر ہوتی ہے۔ اس لئے میرٹھ میں منعقدہ آر ایس ایس کے راشٹر اودے سماگم کے دوران موہن بھاگوت کی تقریر کا گہرائی سے مطالعہ کیا جانا چاہئے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے میرٹھ کی تقریر میں کئی ایسے دعوے اور خیالات کا اظہار کیا جو تاریخ، اور نظریاتی دنیا میں نئے ہیں، ہمارے ملک کی تعمیر کرنے والوں کی سوچ سے علیحدہ ہیں۔ الفاظ کے انتخاب میں بھی انہوں نے کافی چھوٹ لی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’’کسی بھی شخص میں سخاوت اور عدم تشدد کے لئے کٹرتا ہونی چاہئے۔‘‘ دنیا کا کوئی شخص سخاوت اور کٹرتا کو ایک ساتھ نہیں ملاتا۔ اگر وہ کٹرتا کی جگہ لفظ ’عہد مند‘ کا استعمال کرتے تو درست ہوتا۔ لیکن یہ معاملہ صرف الفاظ کے انتخاب کا ہی نہیں ہے بلکہ خیالات کے اظہار کی روانی کا بھی ہے۔ دائیں بازو کا نظریہ کٹرتا لفظ سے اپنی محبت کوچھپا نہیں پاتا اور یہ اس وقت بھی سامنے آ جاتا ہے جب اسے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آرایس ایس کے لوگ کافی تعداد میں تقریر کو سن رہے ہوں گے۔ ان کی بھیڑ بہت زیادہ ہے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سنگھ کے سربراہ اپنی طاقت کا احساس کرانا چاہ رہے تھے۔

انہوں نے کہا’’یہ پروگرام طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے نہیں ہے۔ طاقت دکھانے کی چیز نہیں ہوتی ہے وہ تو نظرآجاتی ہے۔ ‘‘ اسی ضمن میں جب وہ ہر طبقہ کے لوگوں کو سنگھ سے جڑنے کی صلاح دے رہے تھے تو وہ یہ بھول گئے کہ ان سے اور ان کی سیاست سے اختلاف رکھنے والے ہندوستانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بھلے ہی ان کے مخالف آکر کمزور ہوں لیکن مختلف نظریات، طریقہ زندگی اور ثقافتیں اس ملک کی پہچان ہیں اور وہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں اس کثرت کو بھی چیلنچ کیا۔ وہ اپنی رو میں یہ کہہ گئے کہ ’’دنیا مانتی ہے کہ ایک ہونے کے لئے ایک جیسا ہونا پڑے گا لیکن ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو مانتا ہے کہ کثرت اور وحدانیت ایک ہیں۔‘‘ یہاں سنگھ کے سربراہ سے یہ گزارش ضروری ہو جاتی ہے کہ کثرت میں وحدانیت کے معنی ساتھ ساتھ یا علیحدہ ہونا نہیں بلکہ کثرت کا احترام کرتے ہوئے متحد ہونا ہے۔

موہن بھاگوت نے تاریخ کا ویسے ہی ذکر کیا جیسے خود ان کی تعمیرکردہ تاریخ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ہندؤں کو ایک ہونا ہے کیوں کہ یہ قدیمی وقت سے ہمارا گھر ہے۔ اس کے لئے ہم پرعزم ہیں۔ ‘‘

بے شک ہندوستان قدیمی وقت سے ہندؤں کا گھر ہے لیکن اسی طرح سے وہ بودھ ، جین، مسلم، پارسی اور دیگر مذاہب کے لوگوں کا بھی گھر ہے۔

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس مذہب کے ماننے والے کس دور میں ہندوستان میں قیام پزیر ہوئے۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ ملک کو امن، محفوظ اور خوشحال بنانے کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ہندوستان متحد ہے یا نہیں۔ اور صرف ہندؤں کے متحد ہونے کی بات کر کے اس مقصد کو خاص نہیں کیا جاسکتا۔ اور جس طرح کی غلط بیانیاں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اپنی تقاریر میں کرتے ہیں ان سے ملک کو ایسا خطرہ لاحق ہےجس سے راشٹر ادئے (طلوع) تو نہیں ہوگا ہاں راشٹر است (غروب) ضرور ہو سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Feb 2018, 9:48 AM