جے رام رمیش نے بھاگوت کے قریبی ڈانگے پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا

نتن گڈکری کے پرسنل سکریٹری ویبھو ڈانگے کی کمپنی آئی ایف جی ای نے سرکاری فائدہ اٹھا کر سرکاری خدمات کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اس معاملے میں گڈکری سے وضاحت طلب کی ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

وشو دیپک

سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے مودی حکومت پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے ویبھو ڈانگے کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ویبھو ڈانگے مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے پرسنل سکریٹری ہیں اور انڈین فیڈریشن آف گرین انرجی نام کا ادارہ چلاتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے سرکاری پیسوں کا غلط استعمال کیا ہے۔

کابینہ کی انتخابی کمیٹی کی منظوری کے ساتھ ویبھو ڈانگے کو 8 اگست 2014 کو 5 سالوں کے لیے ٹھیکا کی بنیاد پر گڈکری کا پرسنل سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح ان پر سرکاری خدمات سے متعلق ضابطے نافذ ہوتے ہیں۔ ویبھو ڈانگے کی کمپنی آئی ایف جی ای نے سرکاری فائدہ اٹھا کر سرکاری خدمات کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مرکزی وزیر نتن گڈکری ایک بار پھر سے مصیبت میں پھنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش

24 نومبر کو جے رام رمیش نے ایک پریس کانفرنس بلا کر کہا کہ مہاراشٹر اور مرکزی حکومت نے ڈانگے کی کمپنی کو معاشی فائدہ پہنچایا۔ ویبھو ڈانگے نے اپنی کمپنی آئی ایف جی ای کی شروعات مہاراشٹر کے چالیس گاؤں باشندہ موتی رام کسان راؤ پاٹل کے ساتھ مل کر 9 اکتوبر 2014 کو کی تھی۔ دونوں کی اس کمپنی میں برابر کی شراکت داری ہے۔ کمپنی کا رجسٹریشن آرٹیکل 8 کے تحت ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کمپنی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کام نہیں کر سکتی۔

سنٹرل پبلک سروس (ضابطہ اخلاق) کے ضابطہ 12 کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم یا افسر فائدہ حاصل کرنے والے کسی بھی ادارے میں تعاون نہیں دے سکتا ہے۔ ڈانگے سے جب پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے ان ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے، تو انھوں نے اس بات کو سرے سے خارج کر دیا۔

مرکزی وزیر نتن گڈکری کے قریبی ڈانگے کے مطابق وزارت ٹرانسپورٹیشن نے ان کی کمپنی کو کبھی کوئی فنڈ نہیں دیا۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ آئی ایف جی ای کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی نے نتن گڈکری کے ماتحت آنے والے کئی محکموں اور پی ایس یو کے ساتھ مل کر مختلف موضوعات پر کئی تقاریب اور سمینار منعقد کیے ہیں۔ کمپنی کے ذریعہ منعقد اندور میں اپریل 2016 میں ہوئے گلوبل بمبو سمیلن وزارت ٹرانسپورٹیشن کے تعاون سے ہوا ہے۔ ممبئی کے شپنگ کارپوریشن آف انڈیا آڈیٹوریم میں مئی 2017 کو ’گرین پورٹس اینڈ آئل اسپل مینجمنٹ‘ پر مبنی تقریب کا انعقاد بھی ویبھو ڈانگے کی کمپنی نے ہی کیا تھا جس میں شپنگ منسٹری نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

جے رام رمیش نے بھاگوت کے قریبی ڈانگے پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا

اس انعقاد کے نوٹیفکیشن کے مطابق انڈین پورٹس ایسو سی ایشن کا بھی تعاون تھا۔ 3 لاکھ سے 15 لاکھ روپے کے درمیان کی مدد پہنچا کر کوئی بھی بندرگاہ اس کا اسپانسر بن سکتا تھا۔ حالانکہ اس پوری سرگرمی میں خود کو پھنستا ہوا دیکھ کر ڈانگے نے کمپنی کے ڈائریکٹر عہدہ سے 13 ستمبر 2017 میں ہی استعفیٰ دے دیا تھا، جس کی جانکاری کمپنی آف رجسٹرار کے پاس موجود ہے۔ اس پورے معاملے کو پہلی مرتبہ ایک انگریزی اخبار نے منظر عام پر لایا۔

جے رام رمیش نے نتن گڈکری سے پورے معاملے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے پیسوں کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کی جانکاری وزیر کو تھی۔ ویبھو ڈانگے وزیر برائے ٹرانسپورٹ کے پی ایس ہونے کے علاوہ ایک سرگرم آر ایس ایس کارکن بھی ہیں۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری اور سریش پربھو دونوں آئی ایف جی اے کے نیشنل ورکنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

سال 1996 سے لے کر سال 1999 تک مہاراشٹر اے بی وی پی میں ڈانگے تنظیمی وزیر تھے۔ کانگریس نے یہ کہا کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ڈانگے کی قربت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ آئی ایف جی ای کمپنی 2014 میں ایک لاکھ کے سرمایہ سے شروع کیا گیا تھا اور سال 2016 میں اس کمپنی کی کل ملکیت 16199731 تھی۔ اس کا دفتر ٹالسٹائے مارگ پر ہے اور آئی ایف جی ای کے قومی ورکنگ کمیٹی کے رکن روی بوراتکر اس دفتر کے مالک ہیں۔ اتفاق سے روی بوراتکر پورتی پاور اور شوگر لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ہیں جو گڈکری فیملی کی کمپنی ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے وزیر برائے ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سے اس معاملے میں کئی سوال پوچھے ہیں جو اس طرح ہیں:

کیا اس پورے معاملے میں نتن گڈکری کی مفاد کا ٹکراؤ نہیں ہے۔؟

کیا نتن گڈکری اور سریش پربھو نے مرکزی وزیر ہونے کے ناطے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی ہے؟

کسی طرح گڈکری اپنی وزارت اور اس سے منسلک پی ایس یو کو اس کمپنی کو معاشی مدد دینے کی اجازت دے سکتے ہیں جو ان کے پرسنل سکریٹری کی ہے؟

کیا ویبھو ڈانگے نے سنٹرل سول سروس کے ضابطوں کی خلاف ورزی نہیں کی ہے جو کسی بھی سرکاری افسر کو نقد یا کسی دیگر شکل میں فنڈ لینے یا اس سرگرمی سے منسلک ہونے سے روکتا ہے؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Nov 2017, 8:39 PM