ڈاکٹر راجیو دھون کے مضمون پر وکیل اور ایودھیا معاملہ میں ثالث شری رام پنچو کا جواب

اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے کیونکہ رازداری رکھنے کا حکم دیا تھا اس لئے میں ڈاکٹر دھون کے الزامات کا جواب نہ دینے کا پابند ہوں۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

محترم،

ڈاکٹر راجیو دھون کا مضمون ’بابری مسجد پر مصالحت: یہ ثالثی نہیں ایک سازش تھی!‘ آپ کے آن لائن ایڈیشن میں یکم نومبر کو شائع ہوا تھا۔ اس میں سپریم کورٹ کے ذریعہ ایودھیا میں رام جنم بھوم - بابری مسجد تنازعہ کے تعلق سے بنائے گئے ثالثی پینل میں بطور رکن میرے کردار کے تعلق سے کئی حوالے ہیں۔

اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے کیونکہ رازداری رکھنے کا حکم دیا تھا اس لئے میں ڈاکٹر دھون کے الزامات کا جواب نہ دینے کا پابند ہوں۔ یہ بتانے کے لئے کہ کمیٹی نے تمام ضابطوں پر عمل کیا ہے میں اس بات پر زیادہ خوش ہوں گا کہ میں سارے حقائق عدالت کے سامنے رکھوں، اگر عزت مآب عدالت مجھ سے ایسا کرنے کو کہے۔

میں اس وقت صرف اتنا کہوں گا کہ ڈاکٹر دھون کے مضمون میں انتہائی درجہ کی بےجا، غیر متعلق اور غلط بیانی موجود تھی۔ مجھے اس طرح کا مضمون دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ وہ وکیل جو اس معاملہ میں ایک فریق کی طرف سے پیش ہو رہا تھا، اس نے رازداری کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا مضمون لکھا جس میں اس نے مجھ سے حقائق کی تصدیق کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس تحریر کو اپنے کالم میں شائع کریں اور اس کا لنک میرے پاس بھیجیں۔

منجانب:

شری رام پنچو

سینئر وکیل اور ثالث