بچوں کی عمر کچھ بھی ہو، انہیں انٹرنیٹ سے دور نہیں رکھا جا سکتا، یہ ان کا بنیادی حق: سپریم کورٹ

عدالت نے واضح کیا کہ آن لائن خطرات سے بچانے کے نام پر بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں کی حفاظت اور ان کی آزادی ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں، بلکہ وہ ان دونوں کے حقدار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i

سپریم کورٹ نے بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے حوالے سے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کا حق ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ اس میں بچے بھی شامل ہیں، خواہ ان کی عمر کچھ بھی ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے نام پر انہیں انٹرنیٹ سے مکمل طور پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں کی حفاظت اور ان کی آزادی ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں، بلکہ بچے دونوں کے حقدار ہیں۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کا حق آئین کی دفعہ 21 اور دفعہ 19(1)(اے) کے تحت بنیادی حق ہے۔ عدالت کے مطابق بچوں کو اس حق سے مکمل طور پر محروم کرنا اتنا ہی غلط ہوگا، جتنا یہ ماننا کہ ایک مخصوص عمر سے کم بچوں میں عقل و شعور یا اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس سوال پر غور کیا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے کیا انہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رکھا جانا چاہیے؟


عدالت نے انٹرنیٹ کو خیالات، تخلیقی اظہار اور معلومات کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہے، بلکہ بالغوں اور بچوں دونوں کو معلومات تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کئی بچوں کے لیے خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے انٹرنیٹ سیکھنے اور معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور رکھنا ان کے سیکھنے، معلومات حاصل کرنے اور اپنی بات رکھنے کے مواقع کو محدود کر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بچوں کو انٹرنیٹ کا حق دینے کا مطلب ان کی آن لائن سیکورٹی کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ بچوں کو جنسی استحصال، بدسلوکی اور دیگر آن لائن خطرات سے بچانا بھی ضروری ہے۔ اسی تناظر میں بنچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور دیگر آن لائن خدمات کو بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد (سی ایس ای اے ایم) کا پتہ لگانے اور اسے ہٹانے کے نظام کو مضبوط کرنے کی ہدایات دیں۔ اس کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ سے دور کیے بغیر انہیں آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کو بہتر بنانا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعہ سپریم کورٹ نے بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور ان کی حفاظت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔