مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں ریکارڈ ووٹنگ، عوام کا بھرپور جوش، 89.93 اور 82.24 فیصد پولنگ درج

مغربی بنگال کے پہلے مرحلے اور تمل ناڈو میں ووٹنگ کے دوران عوام میں غیر معمولی جوش دیکھا گیا۔ بنگال میں 89.93 اور تمل ناڈو میں 82.24 فیصد ووٹنگ درج ہوئی، کئی اضلاع میں ریکارڈ شرح سامنے آئی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال کے پہلے مرحلے اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے دوران ووٹروں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا، جس کے نتیجے میں دونوں ریاستوں میں ووٹنگ کا تناسب کافی بلند درج کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شام پانچ بجے تک کے اندازوں کے مطابق مغربی بنگال میں 89.93 فیصد جبکہ تمل ناڈو میں 82.24 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔

مغربی بنگال میں مختلف اضلاع میں ووٹنگ کا رجحان خاصا مضبوط رہا۔ کوچ بہار، جنوبی دیناجپور اور جلپائی گوڑی جیسے اضلاع میں 90 فیصد سے زیادہ ووٹنگ درج کی گئی، جو عوامی شمولیت کی واضح مثال ہے۔ بیر بھوم، مرشد آباد اور جھارگرام میں بھی ووٹنگ کا تناسب 90 فیصد کے آس پاس رہا، جبکہ دارجلنگ اور کالیمنگ جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی معقول شرح دیکھنے کو ملی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ووٹروں نے بھرپور حصہ لیا۔

ریاست کے دیگر اضلاع جیسے مغربی مدینی پور، مشرقی مدینی پور، مالدہ اور شمالی دیناجپور میں بھی ووٹنگ کا تناسب 85 فیصد سے زیادہ رہا، جو انتخابی عمل میں عوامی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بار ووٹروں کی بڑی تعداد نے گھروں سے نکل کر جمہوری عمل میں حصہ لیا، جو مستقبل کے انتخابات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

دوسری جانب تمل ناڈو میں بھی ووٹنگ کا رجحان کافی حوصلہ افزا رہا۔ کئی اضلاع جیسے کرور، سیلم، ایروڈ اور نمکل میں 85 فیصد سے زائد ووٹنگ درج کی گئی۔ اگرچہ کچھ شہری علاقوں جیسے چنئی اور مدورئی میں ووٹنگ کا تناسب نسبتاً کم رہا، تاہم مجموعی طور پر ریاست میں عوام کی دلچسپی واضح طور پر نظر آئی۔

دیہی علاقوں میں خاص طور پر خواتین اور بزرگ ووٹروں کی بڑی تعداد نے ووٹنگ مراکز کا رخ کیا، جس سے ووٹنگ فیصد میں اضافہ ہوا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی عمل پرامن رہا اور کہیں سے بھی کسی بڑی بے ضابطگی کی اطلاع نہیں ملی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بلند ووٹنگ فیصد کا اثر انتخابی نتائج پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ ووٹنگ عام طور پر تبدیلی یا مضبوط عوامی رائے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ دونوں ریاستوں کے انتخابی نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔