یکم اپریل سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے اصول نافذ، صارفین کو اضافی سکیورٹی کی سہولت
یکم اپریل سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے نئے اصول نافذ ہوں گے جن کے تحت ہر لین دین میں دوہری تصدیق لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد آن لائن دھوکہ دہی روکنا اور صارفین کے مالی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے

نئی دہلی: یکم اپریل 2026 سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں ایک اہم تبدیلی ہونے جا رہی ہے، کیونکہ ریزرو بینک آف انڈیا ڈیجیٹل لین دین کے لیے نئے سکیورٹی اصول نافذ کرنے والا ہے۔ ان اصولوں کا بنیادی مقصد آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات، خاص طور پر فشنگ اور سم سواپ جیسے جرائم پر قابو پانا اور صارفین کے مالی تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
نئے نظام کے تحت ہر طرح کے ڈیجیٹل لین دین، چاہے وہ یو پی آئی کے ذریعے ہو، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے یا پھر کسی موبائل والیٹ کے ذریعہ، اس کے لیے دوہری تصدیق لازمی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف ایک مرتبہ آنے والا پاس ورڈ یعنی او ٹی پی کافی نہیں ہوگا بلکہ صارف کو ایک اضافی سکیورٹی مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا۔ اس اضافی مرحلے میں بایومیٹرک تصدیق، خفیہ پن کوڈ، پاس ورڈ یا بینکنگ ایپ کے ذریعے تصدیقی ٹوکن شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ تصدیق کے کم از کم ایک مرحلے کا تعلق براہ راست اسی مخصوص لین دین سے ہونا چاہیے، یعنی وہ تصدیقی عنصر ہر بار تبدیل ہوگا اور اسے کسی دوسرے لین دین میں استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس طریقہ کار سے جعلسازی کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے کیونکہ کسی ایک معلومات کے لیک ہونے سے مکمل نظام متاثر نہیں ہوگا۔
نئے اصولوں کے مطابق اگر کسی تکنیکی خرابی یا حفاظتی کوتاہی کی وجہ سے صارف کو مالی نقصان ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری متعلقہ بینک یا ادائیگی فراہم کرنے والے ادارے پر عائد ہوگی۔ اس فیصلے کو صارفین کے حق میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے اداروں پر سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا دباؤ بڑھے گا۔
ان تبدیلیوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کسی دھوکہ باز کو صارف کے موبائل پر آنے والا او ٹی پی معلوم بھی ہو جائے، تب بھی وہ ادائیگی مکمل نہیں کر سکے گا کیونکہ اس کے لیے اضافی تصدیق درکار ہوگی، جیسے فنگر پرنٹ یا ایپ کے ذریعے منظوری۔ اسی طرح سم سواپ کے ذریعے ہونے والے فراڈ پر بھی روک لگانے میں مدد ملے گی کیونکہ صرف موبائل نمبر تک رسائی حاصل کرنا اب کافی نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ان نئے اصولوں کے نفاذ کے بعد بڑی رقم کے لین دین پر خودکار طور پر اضافی تصدیق کی جائے گی، جس سے غیر مجاز ٹرانزیکشن کو روکا جا سکے گا۔ مجموعی طور پر یہ قدم ڈیجیٹل ادائیگیوں کو زیادہ محفوظ، قابل اعتماد اور صارف دوست بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔