آر بی آئی کی سختی: اب بیرون ملک بڑی رقم نہیں لگا سکیں گی کمپنیاں، دینا ہوگا حساب

اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے آر بی آئی نے ملک کے اہم بینکوں کو ایک تفصیلی اور طے شدہ معیار پر مبنی چیک لسٹ سونپی ہے۔ اس فہرست میں تمام معلومات کی تفصیل درج ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آر بی آئی / آئی اے این ایس</p></div>
i

بیرون ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں پر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔ ایک طرف غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (ایف پی آئی) ہندوستانی بازار سے رقم نکال رہے ہیں، تو دوسری طرف ڈالر کے مقابلے میں روپے کو سنبھالنے کا چیلنج برقرار ہے۔ اسی صورتحال کے درمیان بینکنگ ریگولیٹر نے ہندوستانی کمپنیوں کی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی اوورسیز ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (او ڈی آئی) کی جانچ پڑتال کافی سخت کر دی ہے۔ اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے آر بی آئی نے ملک کے اہم بینکوں کو ایک تفصیلی اور طے شدہ معیار پر مبنی چیک لسٹ سونپی ہے۔ اس فہرست میں ان سبھی معلومات کی تفصیل درج ہے، جو بینکوں کو بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والی کارپوریٹ کمپنیوں سے جمع کرکے آر بی آئی کو فراہم کرنی ہوں گی۔ یہ نیا ضابطہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی تمام غیر ملکی سرمایہ کاری پر نافذ ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ہندوستانی کمپنی اپنی مجموعی خالص مالیت کی 4 گنا مقررہ حد سے زیادہ رقم بیرون ملک میں لگاتی ہے، تو اسے بھی اس سخت جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

مرکزی بینک نے بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ لیکن بیرون ملک رقم بھیجنے والے بینکوں سے جس طرح سودے کے پیچھے کی منطق، ٹھوس وجہ اور مالیاتی تفصیلات طلب کی گئی ہیں، اس سے واضح ہے کہ آر بی آئی ملک سے باہر جانے والے بڑے فنڈ پر باریک بینی سے نظر رکھ رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو حالیہ دنوں میں ملک سے ڈالر باہر جانے کی ایک بڑی وجہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی رہی ہے۔ 5 برس قبل ہندوستانی کمپنیوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری تقریباً 11 ارب ڈالر تھی، جو مالی سال 2026  میں بڑھ کر 30  ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ آر بی آئی نے بینکوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ کسی غیر ملکی کمپنی کی صرف ویلیویشن رپورٹ دیکھ کر ہی سودے کو آگے نہ بڑھائیں، بلکہ خود بھی اس رپورٹ کی بنیاد پر پوری طرح اطمینان کر لیں۔ بینکوں کو خاص طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ سودے کے لیے کتنا پریمیم ادا کیا جا رہا ہے۔


انہیں یہ جانچنا ہوگا کہ کہیں غیر ملکی کمپنی کی اصل قیمت (انٹرنسک ویلیو) سے کہیں زیادہ رقم تو ادا نہیں کی جا رہی ہے۔ وہیں اگر سودا شیئروں کے تبادلے (سویپ) کے ذریعے ہو رہا ہے، تو دونوں کمپنیوں کی ویلیویشن کی بنیاد پر ایکسچینج ریشیو بالکل درست ہونا چاہیے۔ فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (ایف ای ایم اے) کے ماہر اور بیندرے کنسلٹنسی کے بانی سہاس بیندرے کے مطابق یہ آر بی آئی کا ایک احتیاطی قدم ہے، تاکہ مستقبل میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاری کے سودے خسارے کا سبب نہ بنیں، جس سے ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی نقصان اٹھانا پڑے۔ نئے نظام کے تحت بینکوں کو صرف سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی کے کھاتوں کی معمول کی جانچ ہی نہیں کرنی ہوگی، بلکہ اس کی آمدنی کے معیار، بیرون ملک سرمایہ کاری کے سابقہ تجربات اور موجودہ غیر ملکی واجبات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں اگر کوئی معاشی جھٹکا لگتا ہے، تو کمپنی اسے برداشت کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ بینکوں کو کارپوریٹ کلائنٹس سے براہ راست سوال کرنا ہوگا کہ انہوں نے کسی ہندوستانی کمپنی کو خریدنے کے بجائے غیر ملکی کمپنی کا انتخاب کیوں کیا۔

اس کے علاوہ کمپنیوں کو بتانا ہوگا کہ اس سودے کا ان کے موجودہ کاروبار سے کیا تعلق ہے۔ انہیں واضح کرنا ہوگا کہ غیر ملکی ادارہ دراصل کاروباری سرگرمیاں انجام دینے والی (آپریٹنگ) کمپنی ہے یا صرف سرمایہ کاری رکھنے والی (ہولڈنگ) کمپنی۔ سودے سے کتنے منافع کی توقع ہے، کمپنی کتنے عرصے تک سرمایہ کاری برقرار رکھے گی اور مستقبل میں اس سرمایہ کاری سے باہر نکلنے (ایگزٹ روٹ) کا کیا منصوبہ ہے، ان تمام باتوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوں گی۔ کھیتان اینڈ کمپنی کے پارٹنر معین لادھا کا کہنا ہے کہ ان ضوابط سے درخواست دینے والی کمپنیوں پر ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ بینکوں کو بھی سودے کے پیچھے کی منطق اور خطرات کا آزادانہ طور پر جائزہ لینا ہوگا۔ اب اسٹریس ٹیسٹنگ اور دیگر طریقوں کے ذریعے ہندوستانی سرمایہ کاروں کی مالی مضبوطی، سودے کی قابل عملیت اور ہندوستان کو ہونے والے فوائد کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔


بینکوں کو غیر ملکی کمپنی کی ساکھ کے ساتھ ساتھ اس ملک کے خطرات (کنٹری رسک) کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ ٹیکس اور ریگولیٹری کنسلٹنسی فرم ایسینشیم انڈیا کے شریک بانی ہرشل بھوٹا کے مطابق بینکوں کو دی گئی یہ تفصیلی چیک لسٹ مکمل طور پر ڈیو ڈیلیجنس جیسی ہے۔ پرانی ماسٹر ڈائریکشن میں غیر ملکی کمپنی کی صلاحیت، ہندوستان کو ہونے والے فوائد اور ہندوستانی کمپنی کے سابقہ ریکارڈ جیسے عمومی ضوابط پہلے سے موجود تھے، لیکن نئی چیک لسٹ میں ہر وہ باریک تفصیل طلب کی گئی ہے، جو پہلے اکثر نظر انداز ہو جاتی تھی۔ روپے کی قدر میں جاری اتار چڑھاؤ کے درمیان اس سے صرف انہی معاملات میں منظوری مل سکے گی، جہاں بینک سودے کی حقیقت سے پوری طرح مطمئن ہوں گے۔

مثال کے طور پر اگر کسی سودے میں باہم منسلک کمپنیاں (متعلقہ پارٹی) شامل ہیں یا اس سودے کے ذریعے ہندوستان سے باہر مالی قدر منتقل ہونے کا خدشہ ہے، تو بینک اس کی مزید سخت جانچ کریں گے۔ اس کے علاوہ بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہندوستانی معیشت کو کیا فائدہ ہوگا، اس کی مکمل تفصیلات اور فوائد حاصل ہونے کی مدت بھی بینکوں کو فراہم کرنی ہوگی۔ اس میں یہ بتانا ہوگا کہ اس سودے سے ہندوستان کی برآمدات میں کتنا اضافہ ہوگا، درآمدات پر انحصار کتنا کم ہوگا، نئی بازاروں تک کس طرح رسائی حاصل ہوگی، ہندوستان میں نئی ٹیکنالوجی یا انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) کس طرح آئے گی اور ڈویڈنڈ یا فیس کی صورت میں ملک میں کتنی رقم واپس آئے گی۔ وہیں اگر ہندوستانی پیرنٹ کمپنی اپنی غیر ملکی ذیلی کمپنی کو سستے قرض کی سہولت دلانے کے لیے کوئی گارنٹی دیتی ہے، تو بینکوں کو یہ بھی جانچنا ہوگا کہ مستقبل میں اس گارنٹی کو استعمال کیے جانے کی صورت میں مالی خطرہ کتنا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔