آر بی آئی نے ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا کیا فیصلہ، نہیں بڑھے گی قرض کی ای ایم آئی

آر بی آئی گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ مضبوط گھریلو طلب کے سبب اقتصادی شرح نمو کو لگاتار حمایت مل رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ریزرو بینک آف انڈیا</p></div>
i

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بدھ کو وسیع پیمانے پر کی جانے والی توقعات کے مطابق مسلسل تیسری بار اہم پالیسی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے سنٹرل بینک نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے متفقہ طور پر پالیسی شرح سود (ریپو ریٹ) کو 5.25 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے اپنی مانیٹری پالیسی کا موقف بھی غیر جانب دار رکھا ہے۔

آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ مضبوط داخلی طلب کے باعث اقتصادی ترقی کو مسلسل حمایت مل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر مسلسل برقرار غیر یقینی کے باوجود ہندوستانی معیشت نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں ملک کی معیشت کی کارکردگی آر بی آئی کے اندازے سے بہتر رہی ہے۔


موجودہ مالی سال کی تیسری دو ماہی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں مضبوطی سے شہری اخراجات کو حمایت ملنے کا امکان ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی ایشیا میں دوبارہ بڑھا ہوا تناؤ، عالمی مالیاتی بازاروں میں اتار چڑھاؤ اور ال نینو سے وابستہ خطرات اقتصادی ترقی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کا تنازعہ اہم تجارتی راستوں کو متاثر کر رہا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔

سنجے ملہوترا نے کہا کہ قلیل مدت میں خام تیل اور غذائی اشیا کی بلند قیمتوں کے باعث خوردہ مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ امکان ہے کہ مہنگائی تیسری سہ ماہی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی میں اضافہ بنیادی طور پر غذائی اشیا اور ایندھن کی قیمتوں کی وجہ سے ہے اور اس کا اثر وسیع پیمانے پر نہیں ہے۔


آر بی آئی نے مالی سال 27-2026 کے لیے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا اندازہ 6.6 فیصد سے بڑھا کر 6.7 فیصد کر دیا ہے۔ دوسری طرف صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کا اندازہ 5.1 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ آر بی آئی گورنر کے مطابق جون سے بینکاری نظام میں اوسط لکویڈیٹی 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ برقرار ہے۔ آر بی آئی گورنر کا کہنا ہے کہ قرض کی نمو مضبوط اور وسیع بنیاد والی بنی ہوئی ہے، جو سنٹرل بینک کے نظام میں کافی لکویڈیٹی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی تجارت میں سست روی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی پالیسی میں مسلسل برقرار غیر یقینی ہندوستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے لیے خطرہ پیدا کرتی ہے۔

دوسری طرف ایشیا کی نسبتاً مستحکم کرنسیوں میں شمار ہونے والا روپیہ اس سال ابھرتی ہوئی منڈیوں کی سب سے کمزور کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل ہو گیا ہے۔ مہنگے خام تیل، غیر ملکی سرمایہ کے اخراج، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور ڈالر کی مضبوطی کے باعث روپے پر مسلسل دباؤ بنا ہوا ہے۔ 2026 میں اب تک روپیہ تقریباً سات فیصد کمزور ہو چکا ہے۔ فروری کے آخر میں ایران سے متعلق تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے اس میں تقریباً 6 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔