حیدرآباد میں رمضان: مکہ مسجد سے لاڈ بازار تک عقیدت اور تہذیب کے دلکش مناظر
حیدرآباد میں رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی چارمینار، مکہ مسجد اور لاڈ بازار کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ حلیم، افطار دسترخوان اور گنگاجمنی روایت اس شہر کو ایک روحانی اور تہذیبی جشن میں بدل دیتے ہیں

حیدرآباد: حیدرآباد محض ایک شہر نہیں بلکہ جیتی جاگتی تہذیب کا استعارہ ہے اور جیسے ہی ماہِ رمضان کا چاند نظر آتا ہے، اس کی فضا یکسر بدل جاتی ہے۔ مساجد سے گونجتی تراویح کی صدائیں، گھروں اور محلوں میں تلاوتِ قرآن کی آوازیں اور بازاروں میں سحر و افطار کی تیاریوں کا شور ایک ایسا روح پرور ماحول پیدا کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ جدید ترقی اور آئی ٹی مراکز کی چمک دمک کے باوجود رمضان کی اصل روح آج بھی پرانے شہر کی گلیوں اور تاریخی عمارتوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
چارمینار رمضان کے دنوں میں رات بھر روشن اور متحرک رہتا ہے۔ اس کے قریب واقع مکہ مسجد میں ہزاروں افراد نمازِ پنجگانہ اور تراویح کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ افطار کے وقت مسجد کا وسیع صحن ایک مشترکہ دسترخوان کا منظر پیش کرتا ہے جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ روزہ کھولتے ہیں۔ یہ منظر شہر کی سماجی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
شہر کے دیگر علاقے جیسے مغل پورہ، ملے پلی اور مہدی پٹنم بھی رمضان میں غیر معمولی گہما گہمی کا مرکز بن جاتے ہیں۔ بازاروں میں کھجور، پھل، سموسے اور دیگر روایتی اشیا کی خریداری عروج پر ہوتی ہے۔ شام ڈھلتے ہی سڑکوں پر روشنیوں کی قطاریں اور خریداروں کا ہجوم ایک الگ ہی سماں باندھ دیتا ہے۔
حیدرآباد میں رمضان کا تذکرہ حلیم کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ پستہ ہاؤس، شاہ غوث اور مدینہ ہوٹل جیسے مقامات پر عصر کے بعد ہی طویل قطاریں نظر آتی ہیں۔ دیگوں میں پکتی حلیم کی خوشبو دور تک پھیل جاتی ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری اس ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جو باہمی رواداری کی خوبصورت مثال ہے۔
رمضان کے دوران دینی کتب کی خریداری میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، خصوصاً چارمینار کے اطراف موجود کتابوں کی دکانوں پر رش بڑھ جاتا ہے۔ مختلف محلوں میں نعتیہ اور منقبتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں جو راتوں کو روحانی کیفیت عطا کرتی ہیں۔
عثمانیہ جنرل اسپتال اور نیلوفر اسپتال کے باہر مخیر حضرات کی جانب سے مریضوں کے تیمارداروں کے لیے سحر و افطار کا مفت انتظام کیا جاتا ہے، جو خدمتِ خلق کی عمدہ مثال ہے۔
جوں جوں عید قریب آتی ہے، لاڈ بازار کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں۔ چوڑیوں، عطر اور ملبوسات کی دکانیں سحر تک کھلی رہتی ہیں۔ خواتین کی خریداری اور تاجروں کی مصروفیت شہر کو ایک تہوار کی شکل دے دیتی ہے۔ یوں حیدرآباد میں رمضان محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ تہذیبی ہم آہنگی اور اجتماعی خوشی کا مظہر بن جاتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔