ہریانہ کی کھٹر حکومت کی مدد سے رام دیو نے زمین گھپلہ کیا: کانگریس
کانگریس نے پتنجلی یوگ پیٹھ پر ہریانہ میں ریاست کی بی جے پی حکومت کی مدد سے سینکڑوں ایکڑ جنگلاتی زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے بڑا زمین گھپلہ قرار دیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے پتن جلی یوگ پیٹھ پر ہریانہ میں ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی مدد سے سینکڑوں ایکڑ جنگلاتی زمین قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے بڑا زمین گھپلہ قرار دیا ہے اور پورے معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دینے مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ یوگ گرو بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن کا ادارہ پتن جلی یوگ پیٹھ کی ملحقہ کمپنیوں نے ہریانہ میں فرید آباد کے کوٹ گاؤں میں اراولی پہاڑی سلسلے میں پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر 400 ایکڑ زمین خریدی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگلاتی زمین ہے اور اس کا استعمال کاشتکاری، کسانی، یا کسی بھی طرح کے تجارتی کام کے لئے نہیں کیا جا سکتا اور اسے فروخت بھی نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 2011 میں فرمان جاری ہوا تھا جس میں پنچایتوں سے کہا گیا تھا کہ اگر کسی کے پاس جنگلاتی زمین کا کوئی حصہ ہے تو اسے وہ حکومت کو واپس کردے۔ اس ضمن میں ضلع عدالت میں معاملہ دائر کیا گیا اور یہ معاملہ ابھی چل رہا ہے۔ اس کے باوجود مقامی لوگوں سے پاور آف اٹارني کی بنیاد پر زمین خريدي گئی جس میں ایک شخص نے ہی 104 پاور آف اٹارني کی بنیاد پر زمین خرید لی۔
ترجمان نے کہا کہ اس شخص کا تعلق رام دیو اور بال کرشن سے ہے اور وہ ان کی کمپنیوں میں ڈائریکٹر ہے۔ جس کمپنی کے لئے اس نے اس زمین كو خریدا ہے اس کا 99 فیصد ملکیت آچاریہ بال کرشن کے پاس ہے۔ اس شخص کی بہن اور بہنوئی کے نام پر بھی زمین خریدی گئی ہے۔
کھیڑا نے الزام لگایا کہ بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن نے یہ زمین گھپلہ ہریانہ حکومت کی مدد سے کیا ہے۔ ہریانہ حکومت نے اس گھپلے کو انجام دینے کے لئے اسی سال 27 فروری کو اسمبلی سے زمین ایکٹ میں تبدیلی کا بل منظور کرایا۔
انہوں نے کہا کہ کمال کی بات یہ ہے کہ 27 فروری کو ریاستی اسمبلی سے یہ ترمیمی بل منظور کرایا گیا اور اس سے پہلے یکم فروری کو اس علاقے میں زمین چكبندي لاگو کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ چكبندي جنگلاتی زمین کی نہیں ہوتی ہے بلکہ اسی زمین کی چكبندي ہو سکتی ہے جو زرعی زمین یا استعمال میں لائی جانے والی زمین ہوتی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
