رام مندر چندہ چوری: سپریم کورٹ نے طلب کی اسٹیٹس رپورٹ، مرکز و یوپی حکومت کو نوٹس جاری، آئندہ سماعت 20 جولائی کو

رام مندر نذرانہ چوری معاملہ میں ایڈووکیٹ نریندر کمار گوسوامی نے رِٹ پٹیشن داخل کی ہے۔ ان کے علاوہ اجئے کمار رائے اور دیگر کی طرف سے رام مندر ٹرسٹ کے خلاف کریمنل رِٹ پٹیشن داخل کی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>رام مندر اور سپریم کورٹ، تصویر اے آئی</p></div>
i

رام مندر چندہ چوری معاملہ سے جڑی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے پیر کے روز سماعت کی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کے علاوہ رام مندر کا انتظام و انصرام دیکھنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو بھی نوٹس جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت ے ذریعہ تشکیل ایس آئی ٹی سے اس معاملے کی جانچ سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ سیل بند لفافے میں داخل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اب اس مقدمہ پر آئندہ سماعت 20 جولائی کو ہوگی۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے رام مندر چندہ چوری سے متعلق عرضیوں پر سماعت کی۔ مرکز اور اتر پردیش حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔ انھوں نے رام مندر ٹرسٹ کو نوٹس ٹالنے کی اپیل کی، جسے سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔


سماعت کے دوران ایک عرضی دہندہ کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے سے جڑے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ بھی محفوظ کرنے کی ضرورت تھی۔ ساتھ ہی عرضی دہندگان نے مطالبہ کیا کہ انھیں بھی جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ مہیا کرائی جائے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے عرضی دہندگان کے اس مطالبہ کو خارج کر دیا اور کہا کہ ’’ہم اس بارے میں بعد میں دیکھیں گے، کیونکہ ابھی جانچ جاری ہے۔‘‘

واضح رہے کہ رام مندر چندہ چوری معاملے میں ایڈووکیٹ نریندر کمار گوسوامی نے رِٹ پٹیشن داخل کی ہے۔ ان کے علاوہ اجئے کمار رائے اور دیگر کی طرف سے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ اور دیگر کے خلاف داخل ایک کریمنل رٹ پٹیشن اور آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ کی ایک علیحدہ عرضی شامل ہے۔


اس سے قبل جب جسٹس ایم ایم سندریش اور شیل ناگو کی بنچ کے سامنے گوسوامی کی عرضی کا ذکر کیا گیا تھا، تو سپریم کورٹ نے اس پر فوراً سماعت سے انکار کر دیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس معاملے کو فوراً لسٹ کرنے پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ لگائے گئے الزامات بہت سنگین ہیں۔ معاملے کی فوری سماعت معاملہ پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس سندریش کی صدارت والی بنچ نے ہدایت دی تھی کہ موسم گرما کی تعطیل کے بعد عدالت عظمیٰ کے پھر سے کھلنے پر اس معاملے کو فہرست بند کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔