اپوزیشن کے اعتراضات کے درمیان اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل راجیہ سبھا سے منظور، اب صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا
اپوزیشن کے اعتراضات کے درمیان اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل راجیہ سبھا سے منظور ہو گیا، جو اب صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ اپوزیشن نے اسے نامکمل قرار دے کر امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا

نئی دہلی: راجیہ سبھا نے جمعرات کو دیر شام اپوزیشن کے شدید اعتراضات اور ہنگامے کے درمیان اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل منظور کر لیا۔ اس سے ایک روز قبل یہ بل لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری ملنے کے بعد اب اسے صدر جمہوریہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔
مرکزی حکومت نے یہ ترمیمی بل گزشتہ پیر کو متعارف کرایا تھا۔ یہ قدم ملک بھر میں نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں اور طلبہ کے احتجاج کے بعد اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
ترمیمی بل کے تحت عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) قانون میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جا سکے۔ نئے قانون کے مطابق قصورواروں کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
راجیہ سبھا میں وزیر مملکت برائے وزیراعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بل پیش کیا، جبکہ اس پر بحث کا آغاز قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا پیش کردہ ترمیمی بل اب بھی نامکمل ہے اور اس میں پیپر لیک روکنے کے لیے مؤثر اور مضبوط انتظامات شامل نہیں کیے گئے۔
کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ تمام عوامی امتحانات کے لیے قانونی طور پر وقت بند سالانہ کیلنڈر تیار کیا جائے تاکہ طلبہ کو ہر سال غیر یقینی صورت حال اور تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے تمام سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے اور حکومت کی جانب سے قومی سطح کی روزگار حکمت عملی پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
کانگریس صدر نے حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پیلٹ گن کے استعمال کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی سے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر ایوان میں جواب نہیں دے سکتے تو انہیں استعفیٰ دینا چاہیے، ورنہ وزیر اعظم کو انہیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔
راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے نائب قائد پرمود تیواری نے بھی کارروائی کے آغاز میں وزیر داخلہ کے بیان کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مسلسل طلبہ پر پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھا رہی ہے، لیکن حکومت اس پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔
بحث کے دوران آزاد رکن کپل سبل نے کہا کہ طلبہ صرف پیپر لیک روکنے کا قانون نہیں بلکہ پورے امتحانی نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں۔ آر جے ڈی کے رکن منوج جھا نے کہا کہ اصل مسئلہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے نظام میں ہے اور صرف قانون سازی سے بحران ختم نہیں ہوگا۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راؤت اور سماج وادی پارٹی کے سنجے یادو نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
بحث مکمل ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان نے وزیر داخلہ کی غیر موجودگی پر احتجاج کیا اور ’وزیر داخلہ ایوان میں آؤ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔ اس کے باوجود ایوان نے صوتی رائے سے اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل منظور کر لیا۔
بل کی منظوری کے بعد راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن نے ایوان کی کارروائی جمعہ 31 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون امتحانی شفافیت کو یقینی بنانے اور پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کے لیے اہم قدم ثابت ہوگا، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ این ٹی اے، بھرتی کے نظام اور امتحانی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کے بغیر صرف سخت سزاؤں سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
