راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ کی موجودگی کا مطالبہ، چیئرمین نے رجیجو سے کہا- ’اپوزیشن کا موقف حکومت تک پہنچائیں‘

اپوزیشن کے وزیر داخلہ کی موجودگی کے مطالبہ پر چیئرمین نے کرن رجیجو سے کہا کہ اپوزیشن کی مطالبہ حکومت تک پہنچائیں، جبکہ رجیجو نے کہا کہ یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ کس دن کون سا وزیر ایوان میں آئے گا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں جمعرات کو بھی ہنگامہ آرائی کے درمیان قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس پر چیئرمین راجیہ سبھا سی پی رادھا کرشنن نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو سے کہا کہ وہ اپوزیشن کے اس موقف اور مطالبہ کو حکومت تک پہنچائیں۔

ایوان میں جاری شور شرابے کے دوران چیئرمین نے واضح کیا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کسی وزیر کو ہدایت نہیں دے رہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کی حیثیت سے کرن رجیجو اپوزیشن کی اس خواہش اور مطالبے کو حکومت کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔

چیئرمین نے کہا، ’’قائدِ حزبِ اختلاف صرف اپنی بات رکھ رہے ہیں، وہ کسی کو حکم نہیں دے رہے۔ آپ پارلیمانی امور کے وزیر کے طور پر ان کی بات حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔‘‘

اس کے جواب میں کرن رجیجو نے کہا کہ یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کس دن کون سا وزیر ایوان میں حاضر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس حوالے سے حکومت کو ہدایات نہیں دے سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایوان میں وقفۂ سوالات جاری ہے، لیکن مسلسل ہنگامے کی وجہ سے کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔


رجیجو نے کہا کہ ایوان کو منظم طریقے سے چلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کسی رکن کے خلاف ذاتی تبصرہ نہیں کیا بلکہ صرف راجیہ سبھا کے قواعد و ضوابط کا حوالہ دیا ہے، جن کے مطابق کارروائی چلنی چاہیے۔

اس سے قبل قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے رجیجو کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارلیمانی قواعد سکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب انہیں قواعد بھی کرن رجیجو سے سیکھنے پڑیں گے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ ان کا مقصد کسی رکن کی توہین کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھڑگے ایک سینئر رکن ہیں اور ان کا مکمل احترام کیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے اپنی دلیل کے حق میں کسی مخصوص پارلیمانی قاعدے کا حوالہ نہیں دیا تھا۔

چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایک مرتبہ پھر تمام ارکان سے اپیل کی کہ وہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور وقفۂ سوالات کو چلنے دیں تاکہ عوامی اہمیت کے معاملات پر بحث اور سوالات مکمل ہو سکیں۔ تاہم ان کی اپیل کے باوجود ایوان میں ہنگامہ جاری رہا اور کارروائی متاثر ہوتی رہی۔

مسلسل شور شرابے اور تعطل کے باعث چیئرمین نے آخرکار راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بج کر 15 منٹ تک کے لیے ملتوی کر دی۔ اپوزیشن مسلسل وزیر داخلہ کی موجودگی کا مطالبہ کرتی رہی، جبکہ حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ وزراء کی ایوان میں موجودگی کا فیصلہ حکومت اپنے طریقۂ کار کے مطابق کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔