راجستھان: خواتین کے خلاف مظالم کو روکنے کی سمت میں نئی پہل، وہاٹس ایپ نمبر جاری
شکتی وهاٹس ایپ پر آئی پہلی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ اسکول میٹنگ میں ڈسپلن پر سوال اٹھایا تھا۔ جس پر پی ٹی آئی بھوپندررانا ناراض ہوگیا اور نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے مارنے کے لئے ہاتھ تک اٹھا لیا۔

دھول پور: راجستھان کے ضلع دھول پور میں خواتین کے خلاف مظالم روکنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے نئے اقدامات کرتے ہوئے’ شکتی وہاٹس ایپ نمبر جاری کیے ہیں۔
ضلع کلکٹر نیہا گری نے جمعہ دوپہر شکتی وهاٹس ایپ نمبر 6350616162 جاری کرکے اس ایپ کی شروعات کی ہے۔ کلکٹر کی جانب سے شکتی وهاٹس ایپ نمبر جاری کرنے کے بعد وومن امپاورمنٹ محکمہ کا شکتی واٹس ایپ نمبر سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوا۔ اس کا اثر بھی دیکھنے کو ملا اور دوپہر 12:45 بجے جاری کیے گئے نمبر کے دو گھنٹے بعد ضلع انتظامیہ کے پاس پہلی شکایت سرکاری اسکول کی پہنچی۔ جس میں ایک خاتون ٹیچر نے اسکول کے ہی پی ٹی آئی پر ناشائستہ زبان کے ساتھ ہی مارنے کے لئے ہاتھ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔
اتون ٹیچر کی طرف سے شکتی وهاٹس ایپ نمبر پر بھیجی گئی شکایت میں بتایا ہے کہ یکم جولائی کو اسکول کی میٹنگ میں ڈسپلن کے متعلق سوال اٹھایا تھا۔ جس پر پی ٹی آئی بھوپندر رانا ناراض ہو گیا اور نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے مارنے کے لئے ہاتھ تک اٹھا لیا۔ ٹیچر نے ضلع تعلیم افسر کو دو بار تحریری طور پر شکایت کی، لیکن شکایت کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
متاثرہ خاتون نے شکتی وهاٹس ایپ نمبر پر معاملے کی جانچ کرانے کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ بھی کی ہے۔ كلكٹریٹ میں واقع سیل میں متاثرہ ٹیچر کی طرف شکتی وهاٹس گروپ پر تحریری شکایت ملنے کے بعد کلکٹر نے جانچ بیٹھا دی ہے۔ سا تھ ہی چیف ایجوکیشن افسر سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔
سیل انچارج سی ڈی پی او بھوپیش گرگ نے بتایا کہ معاملے کی سچائی کے لئے ٹیم تشکیل دے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی چیف ایجوکیشن افسر سے بھی جواب مانگا گیا ہے کہ شکایت کے بعد انہوں نے کیا کارروائی کی ہے۔ بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ اسکیم کے تحت شروع کیے گئے خواتین اور بیٹیاں شکتی وهاٹس ایپ کے ساتھ ہی پوسٹ کارڈ سے بھی شکایت بھیجی جا سکتی ہیں۔ وومن امپاورمنٹ محکمہ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سربھی سنگھ نے آج بتایا کہ شکتی وهاٹس ایپ نمبر میں صرف میسج بھیجے جا سکتے ہیں، اس پر کال ریسیو نہیں ہوگی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
