مہاراشٹر میں بارش: گھروں میں پانی داخل، کئی گاؤں کا رابطہ منقطع، 7 اضلاع میں سیلاب والے حالات، انتظامیہ الرٹ
سولاپور میں اجنی ڈیم سے بھیما ندی میں 50,000 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور مویشیوں اور سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
مہاراشٹر میں مسلسل ہو رہی موسلادھار بارش نے یاوتمال، امراوتی، ناسک سمیت 8 اضلاع میں حالات خراب کر دیے ہیں۔ ندیاں اور نالے ابل رہے ہیں، کئی مقامات پر پلوں کے اوپر سے پانی بہہ رہا ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے امداد اور بچاؤ کی ٹیموں کو الرٹ پر رکھا ہے۔
یاوتمال ضلع کے آرنی تحصیل علاقے میں گزشتہ دیر شب ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ لونی کے قریب دہیلی گاؤں واقع کٹی ندی کے پل پر سیلاب کے تیز بہاؤ میں ایک ارٹیگا کار بہہ گئی۔ کار میں ایک میاں بیوی اور ان کی 2 بیٹیاں سوار تھیں۔ حادثے کے دوران شوہر اویناش کھنڈارے کسی طرح درخت پر چڑھ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے، لیکن ان کی اہلیہ مادھوی کھنڈارے اور دونوں بیٹیاں لاپتہ ہیں۔ انتظامیہ کی ٹیمیں رات سے ہی ندی میں تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔
امراوتی ضلع میں بھی شدید بارش کے باعث کئی علاقوں میں پانی بھر جانے کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ ناندگاؤں کھنڈیشور شہر میں کئی گھروں اور دکانوں میں پانی بھر گیا ہے۔ دھامک گاؤں چاروں طرف پانی ہی پانی دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کا رابطہ دوسرے علاقوں سے منقطع ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ضلع میں شدید بارش کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ یعنی حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس طرح ہنگولی ضلع کے کلم نوری تحصیل علاقے میں بھی بارش کا اثر دیکھنے کو ملا۔ قصبہ دھاوڑا گاؤں کے قریب اوڑھے نالے میں سیلاب آنے سے اسکولی طلبہ اور دیہی باشندوں کا رابطہ متاثر ہو گیا ہے۔
بھنڈارا ضلع کی لاکھاندور تحصیل کے مانڈیڈ گاؤں کے قریب ابلتے نالے میں ایک بزرگ کے بہہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جائے وقوع پر ان کا تولیہ ملنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔ تیز بہاؤ کے باعث بچاؤ کے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ وہیں ناسک میں مسلسل بارش کے باعث انتظامیہ الرٹ ہے۔ گنگاپور ڈیم سے 1,200 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ گوداوری اور دارنا ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محفوظ رہنے اور ندیوں اور پلوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح واشم ضلع میں رات بھر ہوئی شدید بارش کے بعد انتظامیہ نے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ ضلع کی تمام چھ تحصیلوں میں شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
جلگاؤں ضلع میں منو دیوی آبشار میں زبردست طغیانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انتظامیہ نے سیاحوں کو آبشار کے قریب جانے سے روک دیا ہے۔ ہتنور ڈیم کے 36 گیٹ بھی کھول دیے گئے ہیں اور تاپی ندی میں 76,873 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ سولاپور میں اجنی ڈیم سے بھیما ندی میں 50,000 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور مویشیوں اور سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اس درمیان نندوربار ضلع میں طویل عرصے بعد ہوئی اچھی بارش سے کسانوں کو راحت ملی ہے۔ خریف کی بوائی میں تیزی آنے کی امید ہے اور کپاس، مرچ و مکئی جیسی فصلوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم گوندیا ضلع میں بارش سے نقصان بھی سامنے آیا ہے۔ ساورتولا علاقے میں نالے میں سیلاب آنے کے باعث تقریباً 50 ہیکٹر دھان کی فصل پانی میں ڈوب گئی ہے۔ کسانوں نے انتظامیہ سے سروے کر کے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
