اتر پردیش کے کئی اضلاع میں شدید آندھی طوفان کے ساتھ بارش اور ژالہ باری، کانپور میں کئی کھڑکی-دروازے ٹوٹے
اتر پردیش کے کانپور ضلع میں ہفتہ کی شام اچانک موسم نے ایسا رخ بدلا کہ پورا شہر درہم برہم ہو گیا۔ شہر میں تقریباً 5 بجے شام ایسا طوفان آیا کہ لوگوں کے گھروں کے کھڑکی اور دروازے تک ٹوٹ گئے۔

اتر پردیش کے کئی اضلاع میں ہفتہ کی شام اچانک موسم نے اپنا مزاج بدل کر معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا۔ لکھنؤ، کانپور، اناؤ، رائے بریلی سمیت دیگر کئی اضلاع میں شام تقریباً 5 بجے شدید آندھی اور طوفان نے ایک طرح سے اپنا قہر برپا کر دیا۔ طوفان کے بعد بارش اور ژالہ باری شروع ہو گئی۔ شدید بارش کے باعث سڑکوں پر پانی بھر گیا، جس سے گاڑیوں کی رفتار تھم گئی۔ اپریل میں اس طرح کا موسم کافی حیران کن ہے۔ محکمۂ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ 6 اپریل تک موسم کا مزاج کچھ ایسا ہی رہنے والا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ضلع کانپور میں ہفتہ کی شام اچانک موسم نے ایسی کروٹ لی کہ پورا شہر درہم برہم ہو گیا۔ شہر میں شام تقریباً 5 بجے آئے طوفان نے کئی لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے تک توڑ ڈالے۔ یہی نہیں، بارش اور ژالہ باری نے حالات مزید خراب کر دیے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق مانسون سے پہلے اسی طرح کی بارش، ژالہ باری اور ہوائیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ شہر میں تیز ہواؤں کا عالم یہ تھا کہ سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کو بھی اپنے پہیے روک کر کنارے کھڑا کرنا پڑا، کیونکہ اتنی تیز ہواؤں میں انہیں چلانا ممکن نہیں تھا۔
واضح رہے کہ شہر میں ہفتہ کی دوپہر تک گرمی چھائی ہوئی تھی۔ لوگوں کو راحت کے لیے اے سی، پنکھے اور کولر کا سہارا لینا پڑ رہا تھا۔ اچانک شام تقریباً 5 بجے موسم بدلنا شروع ہوا۔ صاف ظاہر ہونے لگا کہ آندھی آئے گی، اور پھر دھیرے دھیرے پورے شہر میں اندھیرا چھا گیا۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے شام کے 7 بجے ہوں۔ اس کے بعد اچانک پہلے بارش شروع ہوئی اور تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہواؤں نے طوفان کی شکل اختیار کر لی اور لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے تک اکھڑنے لگے۔ کئی گھروں کی کنڈیاں ٹوٹ گئیں اور کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ کچھ دیر بعد تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری شروع ہو گئی۔ بارش تو کم ہو رہی تھی، لیکن ہوائیں اپنے عروج پر تھیں۔ برف گرنے کی آواز ہر طرف سنائی دے رہی تھی۔
ماہر موسمیات ڈاکٹر سنیل پانڈے نے بتایا کہ مانسون سے پہلے اس طرح کی ہوائیں شام کو بارش کے ساتھ چلتی ہیں اور کئی بار اولے بھی پڑتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران 3.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ 37.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلیں۔ ڈاکٹر سنیل نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال اپریل کے مہینے میں مزید دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ہفتہ جیسا موسم 6 اپریل تک رہنے کا امکان ہے۔ اس خراب موسم کا سب سے زیادہ اثر بجلی کی سپلائی پر پڑا ہے۔ بارش اور تیز ہواؤں کے شروع ہوتے ہی محکمۂ بجلی کو سپلائی بند کرنی پڑی۔ محکمہ کے مطابق بارش اور ہواؤں کے رکنے کے بعد ہی اندازہ ہو سکے گا کہ موسم کی وجہ سے کہاں اور کتنا نقصان ہوا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔