اپوزیشن انڈیا بلاک آج راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر جمع ہوگا!
اپوزیشن کے 'مارچ فار ڈیموکریسی' اور سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے خلاف عرضی داخل کرنے کے بعد راہل گاندھی نے منگل کو اپنی رہائش گاہ پر 'چائے پارٹی' کی میزبانی کی۔

'ووٹ چوری' اور اسپیشل انٹینسیو ریویو(ایس آئی آر) کے خلاف دہلی میں بڑے پیمانے پر 'جمہوریت کے لیے مارچ' کے ٹھیک ایک دن بعد، اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی کو تیز کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے آج اپنی سرکاری رہائش گاہ پر انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ، سیول سوسائٹی کے نمائندوں اور طلبہ تنظیموں کو ہائی ٹی یا 'ٹی پارٹی' میں مدعو کیا ہے۔
اس سے قبل اپوزیشن اتحاد کے رہنما مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈروں کو بھیجے گئے دعوت نامے میں راہل گاندھی نے منگل کی سہ پہر مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد 'چائے پارٹی' کا ذکر کیا ہے۔ تقریب شام 4 بجے ان کی رہائش گاہ 5 سنہری باغ روڈ پر ہوگی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل اور ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں پر حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کر رہی ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں، سماجی کارکنوں، اور سیول سوسائٹی کے نمائندوں نے پیر کو ایس آئی آر اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف مارچ کیا۔
احتجاج کے دوران وسطی دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ کناٹ پلیس اور آس پاس کے علاقوں میں مظاہرین کی بڑی تعداد جھنڈے اور پوسٹر اٹھائے پہنچی۔ اس مارچ میں راہل گاندھی اور راجیہ سبھا کے قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کے ساتھ کئی اپوزیشن لیڈروں نے شرکت کی جن میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ڈی راجہ، سی پی آئی (ایم) لیڈر ایم اے بیبی، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی، سوسی پی ڈی اور این سی پی کے لیڈر شامل تھے۔
اپوزیشن کی درخواست میں الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے عمل اور انتخابی بے ضابطگیوں سے ووٹر کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان الزامات پر فریقین کے جوابات اور عدالتی سماعت آگے کی کارروائی میں اہم ہوگی۔
اس سے قبل چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے اس معاملے پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سے ملاقات کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔ جس کے بعد اپوزیشن نے مقررہ عدالتی عمل کے ذریعہ پٹیشن دائر کرنے کا انتخاب کیا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اجلاس میں کن امور پر حتمی طور پر اتفاق ہو گا یا مستقبل کے کن پروگراموں کا اعلان کیا جائے گا۔ اس وقت اپوزیشن کی سیاسی مہم کے مرکز میں ایس آئی آر ، ووٹر لسٹ اور مبینہ 'ووٹ چوری' کے الزامات ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
