’اب لڑکیاں بولیں گی، ملک سنے گا‘، راہل گاندھی 22 اگست کو پونے میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے کریں گے خطاب

راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ نے حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے ہمت دکھائی۔ ’چھاتروں کی گونج‘ کا اگلا پروگرام 22 اگست کو پونے میں ہوگا، جو خاص طور پر طالبات کے لیے مختص ہوگا

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں نے موجودہ حکومت کے سامنے جس حوصلے کے ساتھ جواب دہی کا مطالبہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے اپنی آواز تشدد کے بجائے امن، محبت اور ہنسی مذاق کے ساتھ بلند کی، لیکن اس دوران متعدد طلبہ اور خاص طور پر طالبات کو دھمکیوں، بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

راہل گاندھی نے یہ بات ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہی، جس میں انہوں نے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ پروگرام 22 اگست کو پونے پہنچے گا اور اس مرتبہ پروگرام خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ہوگا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہا، ’’اب لڑکیاں بولیں گی، ملک سنے گا۔‘‘

پروگرام میں شرکت کے لیے راہل گاندھی کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کا فارم بھی دستیاب ہے، جہاں طلبہ سے پونے میں 22 اگست کے پروگرام میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ فارم میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں طلبہ پہلے ہی اس مہم کا حصہ ہیں اور یہ پروگرام طلبہ کو اپنی پسند کا تعلیمی نظام حاصل کرنے کے مطالبے کے لیے آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

راہل گاندھی نے اپنی ایکس پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ احتجاج میں شامل طلبہ، بالخصوص طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے تجربات سن رہے ہیں۔ تقریباً ساڑھے دس منٹ کی اس ویڈیو میں طلبہ نے سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور ٹرولنگ سے لے کر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، حراست اور بدسلوکی تک کے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔


ویڈیو کے ابتدائی حصے میں طلبہ نے سوشل میڈیا پر ملنے والی دھمکیوں، گالی گلوج اور ’ملک دشمن‘ قرار دیے جانے کے تجربات بتائے۔ ایک طالبہ نے دعویٰ کیا کہ اسے روزانہ متعدد گالیاں اور دھمکیاں ملتی ہیں۔ گفتگو میں سوشل میڈیا پر تصاویر کو بگاڑ کر یا دھندلا کر پیش کرنے اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مواد پھیلانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

ویڈیو میں ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ احتجاج میں اس لیے شامل ہوئی کیونکہ اس کے مطابق اگر ہر شخص صرف اپنے ذاتی مسئلے کے لیے آواز اٹھائے گا تو اجتماعی مسائل پر توجہ نہیں دی جا سکے گی۔ اس نے کہا کہ جب کسی دوسرے شخص کے ساتھ ناانصافی ہو تو اس کے خلاف بھی آواز اٹھانا ضروری ہے۔

ایک اور طالبہ نے تعلیم کے نظام سے متعلق اپنی تشویش بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گریجویشن کے بعد احتجاج میں شامل ہوئی، جبکہ اس کی بہن نیٹ کی تیاری کر رہی تھی۔ اس نے پیپر لیک کے معاملے کو احتجاج میں شامل ہونے کی ایک وجہ قرار دیا اور اتر پردیش میں تعلیمی نظام کی صورت حال پر بھی سوال اٹھائے۔ اس کے مطابق تعلیم سے متعلق مسائل کے بجائے دوسرے موضوعات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

ویڈیو میں 20 جولائی کو احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے ایک طالبہ نے کہا کہ اس پر متعدد مرتبہ لاٹھیاں برسائی گئیں اور پولیس اہلکاروں نے احتجاج میں شامل لوگوں کو ’ملک دشمن‘ کہا۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ کئی طلبہ زخمی ہوئے اور کچھ کو حراست میں لے کر پولیس کی گاڑیوں میں رکھا گیا۔


گفتگو میں ایک دوسرے واقعے کا ذکر بھی آیا جس میں ایک طالبہ نے کہا کہ احتجاج کے دوران پیلٹ گن فائر کی گئی اور اس کے کان پر چوٹ لگی۔ اس کے مطابق اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں سرجری کی گئی۔ ویڈیو میں موجود بیان کے مطابق اسپتال میں ڈاکٹروں نے پیلٹ گن سے چوٹ لگنے کی بات کہی تھی۔ یہ تمام تفصیلات ویڈیو میں موجود طلبہ کے بیانات پر مبنی ہیں۔

احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے والے طلبہ کے حقوق کا معاملہ بھی گفتگو کا حصہ بنا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ کچھ بچوں کو پولیس الگ الگ تھانوں میں لے گئی اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ اس نے سوال اٹھایا کہ اگر طلبہ کے ہاتھ میں ہندوستان کا آئین اور قومی پرچم ہو اور وہ پُرامن طور پر احتجاج کر رہے ہوں تو انہیں خطرہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں طلبہ نے احتجاج کو صرف اپنے ذاتی مسائل تک محدود رکھنے کے بجائے دوسرے طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو بھی اہم قرار دیا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ اگر کسی دوسرے شہری کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو اور کوئی شخص اسے دیکھ کر بھی خاموش رہے تو اسے حقیقی قومیت نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے مطابق کسی دوسرے شہری کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو اپنا مسئلہ سمجھ کر کھڑا ہونا بھی شہریت اور قومیت کا حصہ ہے۔

گفتگو کے آخری حصے میں بعض طالبات نے زبردستی معافی منگوائے جانے اور اس کے بعد سیاسی سطح پر اس معافی کو قبول کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ایک طالبہ نے دعویٰ کیا کہ کچھ لڑکیوں کو معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق انہوں نے خود معافی نہیں مانگی تھی۔ ویڈیو میں طالبات نے اس معاملے اور احتجاج کے دوران اپنے ساتھ بدسلوکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔


راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہیں ہر نوجوان پر فخر ہے، خاص طور پر ان لڑکیوں پر جنہیں ان کے بقول بدسلوکی، گالی گلوج اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض طالبات کو وزیر اعظم سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کو اب دبایا نہیں جا سکے گا۔

’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت راہل گاندھی اس سے پہلے کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج میں بھی طلبہ سے خطاب کر چکے ہیں۔ اب اس سلسلے کا اگلا پروگرام 22 اگست کو پونے میں ہوگا، جہاں راہل گاندھی خاص طور پر طالبات سے خطاب کریں گے۔ پروگرام کا مرکزی پیغام بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ نوجوان، خصوصاً لڑکیاں، اپنے تعلیمی اور شہری حقوق سے متعلق مسائل پر براہِ راست اپنی آواز بلند کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔