راہل گاندھی کا وزیر اعظم مودی پر حملہ، کہا- ’ہندوستان کے مستقبل کو معاف کرنے کا اختیار انہیں کس نے دیا؟‘
راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر طلبہ کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں ’ہندوستان کے مستقبل کو معاف کرنے‘ کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کی سوچ پر بھی سخت تنقید کی

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’ہندوستان کے مستقبل کو معاف کرنے‘ کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان روزگار، شفاف امتحانی نظام اور بہتر تعلیمی ڈھانچے کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ان کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔
راہل گاندھی نے یہ بات ایم ڈی ایم کے رہنما وائیکو کی کتاب ’وائیکو اِن پارلیمنٹ‘ کی رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو ’گمراہ‘ قرار دیتے ہوئے انہیں معاف کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ طلبہ شدید تکلیف میں سڑکوں پر ہیں، انہیں روزگار نہیں مل رہا، وہ امتحانات میں انصاف اور ایسا تعلیمی نظام چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں کام کرے۔ دوسری جانب وزیر اعظم انہیں معاف کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان کے مستقبل کو معاف کرنے کا اختیار انہیں کس نے دیا۔‘‘
کانگریس رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، ان کے ساتھیوں اور بالخصوص راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سوچ ملک کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ ہندوستان کی آئینی اور ثقافتی بنیادوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا آئین ملک کو مختلف ریاستوں کے مرکز کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور ہر ریاست اپنی الگ تاریخ، زبان، ثقافت اور عوامی شناخت کی نمائندہ ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ تمل ناڈو، مہاراشٹر، مغربی بنگال، کیرالہ اور دیگر ریاستیں صرف جغرافیائی اکائیاں نہیں بلکہ اپنی منفرد تہذیب، زبان، تاریخ اور عوامی جذبات کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق ہر ریاست کو اپنی شناخت کے اظہار اور مساوی سلوک کا آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملک کی مختلف زبانوں، ثقافتوں اور تاریخوں کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور صرف ایک مخصوص نظریے کو پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہندوستان کے عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں طلبہ کا احتجاج صرف امتحانات یا روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کی کثیر الثقافتی شناخت اور آئینی اقدار کے تحفظ کی جدوجہد بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی کسی بھی زبان، ثقافت یا تاریخ کو پامال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر راہل گاندھی نے وائیکو کی طویل عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف تمل ناڈو بلکہ مرکز اور آئین کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائیکو ان کے لیے باعثِ تحریک ہیں اور ان کی کتاب کی رسم اجرا میں شرکت اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
