نیٹ طلبہ سے ملاقات کے بعد راہل گاندھی کا حکومت پر حملہ، کہا، ’نوجوانوں کا امتحانی نظام اور نریندر مودی پر اعتماد ٹوٹ چکا‘
راہل گاندھی نے نیٹ طلبہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ نوجوانوں کا امتحانی نظام اور نریندر مودی پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے پیپر لیک، مہنگی کوچنگ اور امتحانی بدانتظامی پر سخت سوال اٹھائے

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کے روز نیٹ کے طلبہ سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے مرکزی حکومت اور امتحانی نظام پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں وہ نیٹ کے امیدواروں سے گفتگو کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ جاری اپنے پیغام میں راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کا نوجوان نریندر مودی اور موجودہ امتحانی نظام پر اعتماد کھو چکا ہے۔
راہل گاندھی نے لکھا کہ طلبہ کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک بات بالکل واضح ہو گئی کہ نوجوانوں کو یقین نہیں رہا کہ حکومت امتحانات کو شفاف طریقے سے منعقد کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ نے انہیں بتایا کہ سوالیہ پرچے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں اور انہیں اس پورے نیٹ ورک، اس میں شامل افراد اور کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔
ویڈیو میں کئی طلبہ نے امتحانات کے التوا، پیپر لیک کے الزامات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے یقینی پر اپنی تشویش ظاہر کی۔ ایک طالب علم نے کہا کہ امتحان ملتوی ہونے کی وجہ سے وہ یونیورسٹیوں کے داخلوں اور دیگر تعلیمی مواقع سے محروم ہو رہے ہیں، جبکہ بعض طلبہ کو خدشہ ہے کہ اگر وہ کامیاب نہ ہوئے تو انہیں ایک اور سال ضائع کرنا پڑ سکتا ہے۔
طلبہ نے امتحانی اداروں پر اعتماد کے بحران کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل پیپر لیک کے واقعات کے بعد یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مستقبل میں امتحانات منصفانہ اور محفوظ طریقے سے منعقد ہوں گے۔ بعض طلبہ نے الزام لگایا کہ سوالیہ پرچے کم قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں اور ان کی معلومات سوشل میڈیا گروپوں میں گردش کرتی رہتی ہیں۔
راہل گاندھی نے طلبہ کی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک عام طالب علم یہ جان سکتا ہے کہ پرچہ کہاں سے اور کیسے لیک ہوا تو پھر متعلقہ ادارے اس کا سراغ کیوں نہیں لگا پاتے۔ ان کے مطابق طلبہ کا سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کا ٹوٹ جانا ہے، کیونکہ ان کے مستقبل، محنت اور خوابوں کا انحصار انہی امتحانات پر ہوتا ہے۔
گفتگو کے دوران کئی طلبہ نے کوچنگ اداروں کی بڑھتی ہوئی فیس، نجی میڈیکل کالجوں کے اخراجات اور متوسط طبقے پر پڑنے والے مالی بوجھ کا بھی ذکر کیا۔ ایک طالبہ نے بتایا کہ بہت سے خاندان لاکھوں روپے کی فیس برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ امتحانات میں بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹیں ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی خدمات حکومت کی ذمہ داری ہیں اور انہیں مکمل طور پر کاروبار نہیں بننا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں طلبہ اور ان کے خاندانوں سے رقم وصول کی جا رہی ہے، جبکہ بنیادی مقصد تعلیم اور عوامی خدمت ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلے کا حل محض جزوی اصلاحات سے ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق طلبہ، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو ساتھ لے کر پورے امتحانی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اہم قومی امتحانات سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ کرائے جا سکتے ہیں تاکہ کسی ایک امتحان میں پیدا ہونے والی خرابی لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر نہ کرے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ملک مزید بچوں کو اس نظام کی نذر نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایک اور نسل کے مستقبل کو بدعنوان اور غیر مؤثر امتحانی ڈھانچے کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
