راہل گاندھی کا نئے وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی پر سخت حملہ، ’عصمت دری کے مجرموں کا محافظ‘ قرار دیا

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نئے وزیر تعلیم پرہلاد جوشی کو ’ریپسٹوں کا محافظ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تقرری پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے بعد ایسا فیصلہ حیران کن ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے نئے مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں ریپسٹوں یعنی عصمت دری کے مجرموں کا محافظ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے بعد ایسے شخص کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری دینا حیران کن اور افسوسناک فیصلہ ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی نظام اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا، متعدد طالبات پر لاٹھی چارج کیا گیا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے ایسے شخص کو وزیرِ تعلیم بنایا جو ریپسٹوں کا دفاع کرتا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا، ’’اس سے زیادہ گھٹیا بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص ریپسٹوں کو تحفظ دینے کی بات کرے۔ آج ہندوستان کے وزیرِ تعلیم ایسے شخص ہیں۔ وزیرِ اعظم کی کابینہ میں کئی لوگ موجود تھے، وہ کسی اور کو یہ ذمہ داری دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو عصمت دری کے مجرموں کا دفاع کرتا ہے۔ یہ واقعی حیران کن ہے۔‘‘

کانگریس رہنما کا یہ بیان پرہلاد جوشی کے 2022 کے اس مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو انہوں نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 سزا یافتہ مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے بعد اختیار کیا تھا۔ اس وقت پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی قانونی ضابطوں کے مطابق عمل میں آئی ہے اور قانون کے تحت سزا کا مقررہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد رہائی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔


بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی پر ملک بھر میں شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی اختیارات کے غلط استعمال کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ہفتے کے روز پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سونپی تھی۔

ان کی تقرری اس وقت عمل میں آئی جب دھرمیندر پردھان نے وزارتِ تعلیم سے استعفیٰ دیا۔ پردھان کے استعفے سے قبل ملک کے مختلف حصوں میں پیپر لیک کے معاملات، امتحانی نظام میں شفافیت اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کو لے کر طلبہ کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا گیا تھا۔ حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان متعدد دور کی بات چیت کے بعد احتجاج ختم ہو گیا، تاہم اپوزیشن اب بھی حکومت پر نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ اور امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔