راہل گاندھی نے اپوزیشن ارکان کو سنایا نہرو کا تاریخی خطاب، کہا- ’صرف گیانیش کمار نہیں، حکومت کو بھی جانا ہوگا‘

راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں انڈیا بلاک کے ارکان کو جواہر لعل نہرو کے تاریخی خطاب ’ٹرسٹ ود دی ڈیسٹنی‘ کے اقتباسات سنائے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے معاملے پر حکومت کو بھی ہٹانے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / سینٹرل ہال سے خطاب</p></div>
i

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے تاریخی خطاب ’ٹرسٹ ود دی ڈیسٹنی‘ کے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ اس دوران انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف ایک عہدیدار تک محدود نہیں ہے، بلکہ موجودہ حکومت کو بھی ہٹانا ہوگا۔

راہل گاندھی صدر دروپدی مرمو سے مجوزہ ملاقات سے پہلے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو نے 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں تاریخی خطاب کیا تھا۔ راہل نے کہا کہ وہ اس خطاب کا ایک حصہ ارکان کو سنانا چاہتے ہیں۔

نہرو کے خطاب کا اقتباس پڑھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’ہندوستان، پورے ایشیا اور دنیا کے لیے یہ ایک انتہائی اہم لمحہ ہے۔ مشرق میں آزادی کا ایک نیا ستارہ طلوع ہو رہا ہے، ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے اور ایک طویل عرصے سے دیکھا جانے والا خواب حقیقت بن رہا ہے۔ یہ ستارہ کبھی غروب نہ ہو اور یہ امید کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔‘‘


اس کے بعد راہل گاندھی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران گجرات، ہریانہ اور مہاراشٹر میں سامنے آنے والے انتخابی نتائج پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ان ریاستوں کے نتائج کو دیکھ کر انہیں اب بھی یقین نہیں ہوتا کہ ایسا کیسے ہوا۔ راہل کے مطابق، جب اپوزیشن کے سامنے اس معاملے سے متعلق شواہد آئے، تب انہیں بے ضابطگیوں کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کام عوام کے منتخب نمائندوں سے ملنا ہے اور انہیں اپوزیشن ارکان سے ملاقات کرنی چاہیے۔

راہل گاندھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف گیانیش کمار کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ موجودہ حکومت کو بھی ہٹانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند دنوں سے اپوزیشن کے احتجاج کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھا ہے اور اگر اسی طرح دباؤ برقرار رکھا گیا تو حکومت گر سکتی ہے۔

انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے یا ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔


راہل گاندھی نے 7 اکتوبر کو بھی گیانیش کمار سے ملاقات کے مطالبے پر آکاشوانی کے مقام پر احتجاج کیا تھا۔ ان کی قیادت میں انڈیا بلاک کی یہ تحریک گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ جمعہ کو اپوزیشن کے نمائندوں نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کا وقت مانگا، تاکہ انتخابی عمل اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق اپنی شکایات ان کے سامنے رکھ سکیں۔ صدارتی بھون کی جانب سے 10 رہنماؤں کے وفد کو رات 8 بجے ملاقات کا وقت دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔